(تکبیر نیوز—- پاکستان، اسلام آباد) دفتر خارجہ نے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق خبروں کو بے بنیاد، گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، خصوصاً ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ، حقائق کے برعکس اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔
بیان کے مطابق جنگ بندی کے بعد اور اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کے دوران ایران اور امریکا کے متعدد طیارے پاکستان آئے تھے تاکہ مذاکراتی عمل سے وابستہ سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظامی اہلکاروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ بعض طیارے آئندہ مذاکراتی مراحل کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے تاہم ان کا کسی فوجی ہنگامی صورتحال یا حفاظتی انتظام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ترجمان کے مطابق اگرچہ باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوئے مگر اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے مسلسل جاری رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دوروں کیلئے بھی انہی انتظامی اور لاجسٹک سہولیات کو استعمال کیا گیا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ اس نوعیت کی رپورٹس خطے میں امن، استحکام اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیری اور ذمہ دار سہولت کار کے طور پر کردار ادا کیا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ شفاف رابطہ برقرار رکھا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کیلئے تمام مخلصانہ سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
