(تکبیر نیوز—- برطانیہ، برمنگھم) برمنگھم میں گرین پارٹی نے واضح طور پر ریفارم یوکے کے ساتھ کسی بھی ممکنہ اتحاد کو مسترد کر دیا ہے جس کے بعد سٹی کونسل میں حکومت سازی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے بعد کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی جبکہ ریفارم یوکے 23 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تاہم حکومت بنانے کیلئے درکار 51 نشستوں سے کافی دور ہے۔
دوسری جانب گرین پارٹی نے 19 نشستیں حاصل کیں جبکہ لیبر 17 اور کنزرویٹو 16 نشستوں کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔
گرین پارٹی کے رہنما جولین پرچرڈ نے کہا کہ ریفارم یوکے ان کی جماعت کی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی اور ان کی سیاست تقسیم پیدا کرنے والی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “برمنگھم کے عوام نے بڑی تعداد میں ریفارم کے علاوہ دیگر جماعتوں کو ووٹ دیا، اس لیے یہ واضح پیغام ہے کہ شہری کس قسم کی سیاست چاہتے ہیں۔”
جولین پرچرڈ نے خاص طور پر امیگریشن سے متعلق ریفارم یوکے کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی کئی کمیونٹیز ریفارم کی پالیسیوں اور بیانات سے خوفزدہ اور پریشان ہیں۔
دوسری جانب ریفارم یوکے کے رہنما جیکس پارکن نے دیگر جماعتوں کی جانب سے اتحاد سے انکار کو جمہوریت کے مفاد کے خلاف قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ “تقریباً تمام جماعتوں نے ریفارم کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے جو مایوس کن ہے، تاہم ہمیں اس کی توقع تھی۔”
گرین پارٹی کے رہنما کے مطابق نئی انتظامیہ کی تشکیل سے متعلق مذاکرات ابھی جاری ہیں اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح شہر کیلئے بہترین نتائج حاصل کرنا ہے جبکہ کچرا ہڑتال، سڑکوں کی مرمت، لائبریریوں اور نوجوانوں کیلئے خدمات جیسے مسائل فوری توجہ چاہتے ہیں۔
