(تکبیر نیوز—- برطانیہ) برطانیہ میں ریفارم یوکے کے نومنتخب کونسلر کو متنازع اور مبینہ نسل پرستانہ بیانات کے بعد پارٹی سے نکال دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اسٹورٹ پرائر نامی کونسلر پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر سکھ خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر نامناسب تبصرے کیے تھے۔
اسٹورٹ پرائر حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد کونسلر منتخب ہوئے تھے تاہم الزامات سامنے آنے کے بعد انہوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا جبکہ پارٹی نے ان کی رکنیت بھی منسوخ کر دی۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک مشترکہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ اسٹورٹ پرائر نے ماضی میں سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ، مسلم مخالف اور نفرت انگیز مواد شیئر کیا تھا۔
رپورٹس میں کہا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر سکھ خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر “اچھا ہوا” جیسے الفاظ استعمال کیے تھے۔
بعد ازاں سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور ریفارم یوکے پر امیدواروں کی جانچ پڑتال کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے۔
ریفارم یوکے ذرائع کے مطابق اسٹورٹ پرائر نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر استعفیٰ دیا جبکہ پارٹی نے ان کی رکنیت ختم کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان پر مسلمانوں، تارکین وطن اور سیاہ فام افراد کے خلاف بھی نفرت انگیز تبصرے کرنے کے الزامات ہیں۔
تاہم اسٹورٹ پرائر نے میڈیا سے گفتگو میں ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات ان کے نہیں ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ ریفارم یوکے کیلئے ایک بڑے سیاسی امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ برطانیہ میں نفرت انگیز تقاریر اور نسل پرستی سے متعلق بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔
