(تکبیر نیوز—- برطانیہ، لندن) برطانیہ کے محکمہ برائے کام و پنشن Department for Work and Pensions ڈی ڈبلیو پی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ سسٹک فائبروسس جیسے سنگین مرض میں مبتلا افراد کی پی آئی پی ادائیگیوں کی درخواستیں غلط طور پر مسترد کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ذاتی معاونتی ادائیگی یعنی Personal Independence Payment پی آئی پی حاصل کرنے والے سسٹک فائبروسس کے 38 فیصد مریضوں کی درخواستیں ابتدائی مرحلے میں مسترد کر دی گئیں۔
متاثرہ افراد میں ایلی گرفن کے بیٹے زیک بھی شامل ہیں۔
ایلی گرفن نے بتایا کہ سسٹک فائبروسس جسم کے تقریباً ہر حصے کو متاثر کرتا ہے اور مریض کم عمری سے ہی زندگی اور موت جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں نے بہت چھوٹی عمر سے ہی زندگی اور موت کے بارے میں گفتگو شروع کر دی تھی کیونکہ بیماری مسلسل ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔
ادھر Cystic Fibrosis Trust سسٹک فائبروسس ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ ریمسڈن نے کہا کہ موجودہ نظام کمزور اور بیمار افراد کو ناکام بنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کیلئے ضروری ہے کہ پی آئی پی نظام کو اس انداز میں بہتر بنایا جائے کہ دائمی اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا افراد کو مناسب سہولت اور معاونت مل سکے۔
ڈی ڈبلیو پی نے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہر ابتدائی مسترد شدہ درخواست لازمی طور پر غلط فیصلہ نہیں ہوتی۔
محکمہ کے مطابق بعض اوقات مناسب شواہد کی کمی یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔
ڈی ڈبلیو پی نے کہا کہ حکومت “ٹمز ریویو” کے تحت پی آئی پی نظام میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے تاکہ اسے زیادہ منصفانہ اور مؤثر بنایا جا سکے۔
محکمہ نے مزید بتایا کہ عوام اور معذور افراد کی تنظیموں سے تجاویز لینے کیلئے حال ہی میں ایک “کال فار ایویڈنس” بھی شروع کی گئی ہے۔
