(تکبیر نیوز—- پاکستان، اسلام آباد) وزارتِ خزانہ نے رواں مالی سال کے جولائی تا مارچ فسکل آپریشنز کی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں ملکی مالی صورتحال سے متعلق اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران بجٹ خسارہ 856 ارب 37 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا جو مجموعی قومی پیداوار کا 0.7 فیصد بنتا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اس عرصے میں پاکستان نے 4 ہزار ارب روپے سے زائد کا پرائمری سرپلس بھی ریکارڈ کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا مارچ مجموعی آمدن 14 ہزار 799 ارب روپے سے زائد رہی جبکہ کُل اخراجات 15 ہزار 655 ارب روپے سے زیادہ ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 9 ماہ کے دوران ٹیکس آمدن 10 ہزار 166 ارب روپے سے زائد رہی جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 9 ہزار 305 ارب روپے ٹیکس وصول کیا۔
اس کے علاوہ نان ٹیکس آمدن 4 ہزار 933 ارب روپے سے زائد ریکارڈ کی گئی۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق جاری اخراجات 14 ہزار 267 ارب روپے سے تجاوز کر گئے جبکہ صرف سود کی ادائیگیوں پر 4 ہزار 947 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔
دفاعی اخراجات کی مد میں بھی 1 ہزار 689 ارب روپے سے زائد خرچ ہونے کا انکشاف رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق بڑھتے اخراجات، قرضوں پر سود کی بھاری ادائیگیاں اور مالی دباؤ حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں جبکہ آنے والے بجٹ میں مزید سخت معاشی فیصلوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
