(تکبیر نیوز—- برطانیہ، برمنگھم) برمنگھم سٹی کونسل میں سب سے بڑی جماعت بننے کے باوجود ریفارم یوکے حکومت بنانے میں ناکام ہو گئی جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مخلوط اتحاد کیلئے رابطے اور مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔
ریفارم یوکے کے گروپ لیڈر جیکس پارکن نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ کونسل میں بائیں بازو کی اکثریت کے باعث ان کی جماعت انتظامیہ تشکیل دینے کی پوزیشن میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے واضح طور پر ریفارم یوکے کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد اقتدار حاصل کرنے کا راستہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔
جیکس پارکن نے کہا کہ برمنگھم کے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج تاریخی ہیں کیونکہ ریفارم یوکے پہلی مرتبہ سٹی کونسل کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے روایتی سیاست کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے بڑی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے تاہم سیاسی صورتحال کے باعث ان کی جماعت حکومت نہیں بنا سکے گی۔
برمنگھم سٹی کونسل میں اکثریت کیلئے 51 نشستیں درکار تھیں جبکہ ریفارم یوکے صرف 23 نشستیں حاصل کر سکی۔
لبرل ڈیموکریٹس پہلے ہی ریفارم یوکے کے ساتھ اتحاد سے انکار کر چکے ہیں جبکہ گرین پارٹی نے بھی صرف اپنی ہم خیال جماعتوں سے رابطے کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ادھر کنزرویٹو رہنماؤں کی جانب سے بھی ریفارم یوکے کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کے اشارے سامنے آئے ہیں۔
جیکس پارکن نے کہا کہ اگرچہ ان کی جماعت حکومت نہیں بنا سکے گی لیکن ریفارم یوکے ایک مضبوط اور تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی اور نئی قیادت کا بھرپور احتساب کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق برمنگھم میں معلق کونسل کی صورتحال کے بعد آئندہ چند روز انتہائی اہم ہوں گے جہاں مختلف جماعتیں اقتدار کے حصول کیلئے نئی صف بندیاں اور اتحاد بنانے کی کوشش کریں گی۔
