(تکبیر نیوز—- برطانیہ) برطانیہ میں ریفارم یوکے نے نورفوک کاؤنٹی کونسل میں واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے باوجود اقلیتی انتظامیہ کے طور پر کونسل چلانے کا عندیہ دے دیا ہے۔
حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ریفارم یوکے نے 40 نشستیں حاصل کیں جبکہ مکمل اکثریت کیلئے 43 نشستیں درکار تھیں۔
پارٹی کے نومنتخب رہنما ڈیوڈ بک نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ان کی جماعت کونسل کو اقلیتی انتظامیہ کے طور پر چلا سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ “مثبت گفتگو” ضرور ہوئی ہے تاہم کسی باضابطہ اتحاد کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
لبرل ڈیموکریٹس، گرین پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی پہلے ہی ریفارم کے ساتھ اتحاد یا اشتراکِ اقتدار کے امکان کو مسترد یا کمزور قرار دے چکی ہیں۔
ڈیوڈ بک کو منگل کے روز پارٹی کونسلرز کے اجلاس میں ریفارم یوکے گروپ کا رہنما منتخب کیا گیا۔
وہ اس سے قبل بھی کونسل میں ریفارم کے دو ارکان میں شامل تھے اور گزشتہ برس تھیٹ فورڈ ویسٹ کی نشست جیت کر کونسل پہنچے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ڈیوڈ بک کا تعلق مالیاتی شعبے اور پبلک ریلیشنز سے رہا ہے جبکہ وہ فٹبال کی دنیا میں بڑے کاروباری معاہدوں میں بھی کردار ادا کر چکے ہیں۔
ریفارم یوکے کے نائب رہنما کے طور پر رابن ہنٹر کلارک کو منتخب کیا گیا ہے جو گزشتہ برس کنزرویٹو پارٹی چھوڑ کر ریفارم میں شامل ہوئے تھے۔
ڈیوڈ بک نے کہا کہ انتخابات میں پارٹی نے “بہت شاندار کامیابی” حاصل کی تاہم مکمل اکثریت نہ ملنے پر مایوسی بھی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ 28 مئی کو کونسل اجلاس میں نئے رہنما کے انتخاب کا فیصلہ کیا جائے گا اور اگر اکثریت نے ان کی حمایت کی تو وہ اپنی کابینہ تشکیل دیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق برطانیہ کی مقامی سیاست میں اقلیتی انتظامیہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تاہم ریفارم یوکے کیلئے یہ ایک بڑا سیاسی امتحان ہوگا۔
