(تکبیر نیوز—- برطانیہ، برمنگھم) برمنگھم سٹی کونسل کے بلدیاتی انتخابات کے آخری وارڈ کے نتائج آج متوقع ہیں جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد سازی کیلئے مشاورت کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گلیب فارم اینڈ ٹائل کراس وارڈ کے دو نشستوں کے نتائج پیر کو برمنگھم یوٹیلیٹا ایرینا میں دوبارہ گنتی کے بعد جاری کیے جائیں گے۔
ووٹوں کی گنتی جمعہ کی شب وقت ختم ہونے کے باعث مکمل نہ ہو سکی تھی جس کے بعد باقی ماندہ نتائج پیر کی دوپہر ایک بجے دوبارہ شروع ہونے والے عمل کے بعد جاری کیے جائیں گے۔
سابق لیبر کونسل لیڈر John Cotton جان کاٹن پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ اپنی نشست برقرار رکھنے میں ناکام رہے کیونکہ وہ ابتدائی تین امیدواروں میں جگہ نہ بنا سکے۔
برمنگھم سٹی کونسل کے 99 نتائج پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں جبکہ آخری دو نشستوں کا اعلان باقی ہے۔
موجودہ صورتحال کے مطابق Nigel Farage نائجیل فراج کی جماعت ریفارم یوکے 22 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے جبکہ گرین پارٹی 19 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
لیبر پارٹی 17، کنزرویٹو پارٹی 16، آزاد امیدوار 13 جبکہ لبرل ڈیموکریٹس 12 نشستیں حاصل کر چکے ہیں۔
ادھر نو منتخب کونسلرز کی حلف برداری بھی شروع ہو چکی ہے جبکہ مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد یا پاور شیئرنگ فارمولے پر مشاورت جاری ہے کیونکہ کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔
بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو شدید دھچکا لگا جہاں سابق کونسل لیڈر جان کاٹن سمیت کئی اہم رہنما اپنی نشستیں ہار گئے۔
لیبر کے دیگر اہم رہنماؤں میں Mariam Khan مریم خان، Saima Suleman سائمہ سلیمان، Karen McCarthy کیرن میکارتھی اور Rob Pocock روب پوکاک بھی اپنی نشستیں نہ بچا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق برمنگھم کے نتائج نے برطانیہ کی سیاست میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں کونسل پر کنٹرول کیلئے سیاسی جوڑ توڑ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
