تکبیر نیوز (لندن): کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے کی موت کو غیر طبعی قرار دیے جانے کے بعد واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ 41 سالہ پروفیسر آرڈے 14 اگست کو جنوبی لندن کے علاقے بیٹرسی میں اپنے گھر پر اہلخانہ کو بے ہوش حالت میں ملے تھے۔
لندن اِنر ساؤتھ کورونر کورٹ میں بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران سینیئر کورونر ڈاکٹر جولین مورس نے کہا کہ دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر انہیں شبہ ہے کہ پروفیسر آرڈے کی موت غیر طبعی تھی، جس کے باعث موت کی باضابطہ تحقیقات شروع کرنا ضروری ہے۔
کورونر نے میڈیا سے بھی محتاط رپورٹنگ کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہائی پروفائل اموات بعض حساس افراد کو مزید متاثر کرسکتی ہیں۔ انہوں نے پروفیسر آرڈے کے اہلخانہ کے جذبات کا خیال رکھنے پر بھی زور دیا۔
سماعت کے دوران پروفیسر آرڈے کے اہلخانہ ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی دیکھ رہے تھے۔
پروفیسر جیسن آرڈے نے رواں ماہ کیمبرج یونیورسٹی میں سوشیالوجی آف ایجوکیشن کے پروفیسر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہیں مبینہ طور پر سرقۂ علمی کے الزامات کے باعث شدید تنقید کا سامنا تھا۔
ان کی موت کے بعد شروع کی گئی فنڈ ریزنگ مہم میں 2 لاکھ 24 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم جمع ہوچکی ہے۔ اہلخانہ نے کہا کہ وہ لوگوں کی غیر معمولی محبت، احترام اور حمایت سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔
اہلخانہ کے مطابق جیسن آرڈے نے اپنی زندگی تعلیم کے فروغ، تعلیمی مواقع تک رسائی بڑھانے، نسلی عدم مساوات کے خاتمے اور آٹزم و نیورو ڈائیورسٹی کے حوالے سے آگاہی کے لیے وقف کی۔
اہلخانہ نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے، ساتھی، والد، بھائی، چچا اور دوست کے انتقال پر غمزدہ ہیں اور اس صدمے سے نمٹنے کے لیے انہیں وقت اور نجی زندگی کی ضرورت ہے۔
پروفیسر آرڈے کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب "Great And Unfortunate Things” برطانیہ میں جمعرات کو شائع کی جارہی ہے۔ پبلشر کے مطابق خاندان نے کتاب کی اشاعت جاری رکھنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ جیسن خود اپنی یادداشتیں شائع ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔
17 اگست کو وسطی لندن میں پروفیسر آرڈے کی یاد میں ایک دعائیہ تقریب میں 30 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، جبکہ کیمبرج میں ان کے طلبہ کی جانب سے بھی مختلف تقریبات منعقد کی گئیں۔
وزیراعظم اینڈی برنہم نے پروفیسر جیسن آرڈے کی موت کو "کئی حوالوں سے ایک سانحہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔
موت کی اصل وجہ کا تعین ابھی ہونا باقی ہے اور کورونر کی تحقیقات جاری ہیں۔
