تکبیر نیوز (بریڈفورڈ): پولیس افسر شارون بشینووسکی کے قتل میں مجرم قرار دیے جانے والے پیران دتا خان کی جیل میں قدرتی وجوہات کے باعث موت واقع ہوئی، انکوائری میں اہم تفصیلات سامنے آگئیں۔
پیران دتا خان 2005 میں بریڈفورڈ کے ایک ٹریول ایجنسی میں ہونے والی مسلح ڈکیتی کا مرکزی منصوبہ ساز تھا، جس کے دوران پولیس کانسٹیبل شارون بشینووسکی کو گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔
خان تقریباً 15 سال تک قانون کی گرفت سے باہر رہا اور بالآخر گروہ کا آخری رکن تھا جسے اس قتل کے مقدمے میں سزا سنائی گئی۔ اسے مئی 2024 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ کم از کم 40 سال قید کی مدت مقرر کی گئی تھی۔
پیران دتا خان کی 21 فروری 2025 کو ایچ ایم پی ویک فیلڈ میں 76 سال کی عمر میں موت ہوئی۔
26 اگست کو ہونے والی انکوائری میں اسسٹنٹ کورونر نومی میک لافلن نے بتایا کہ انہیں خان کے بیٹے شباز خان کا بیان موصول ہوا، جس کے مطابق 40 سالہ کم از کم قید کی سزا نے ان کے والد کی صحت پر گہرا اثر ڈالا تھا۔
کورونر کے مطابق شباز خان نے بتایا کہ ان کے والد نے ڈکیتی میں اپنے جرم کو ہمیشہ تسلیم کیا، تاہم انہوں نے قتل کے الزام سے انکار کیا تھا اور عدالت نے انہیں دوسرے ملزمان کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر قتل کا مجرم قرار دیا۔
انکوائری میں بتایا گیا کہ پیران دتا خان کو پھیپھڑوں کے آخری درجے کے کینسر کا مرض لاحق تھا۔ فروری 2025 میں انہیں فالج کی شکایت کے بعد ویک فیلڈ کے پندرفیلڈز اسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ کینسر بہت زیادہ پھیل چکا تھا اور اسپتال میں بحالی کا علاج مؤثر ثابت ہونے کا امکان نہیں تھا، جس کے بعد خان کو واپس جیل منتقل کردیا گیا جہاں انہیں آخری ایام میں طبی نگہداشت فراہم کی گئی۔
کورونر نومی میک لافلن نے بتایا کہ موت کی وجہ برونکیل نمونیا قرار دی گئی، جو متعدد فالج اور دائیں پھیپھڑے کے کینسر کے ساتھ منسلک تھا۔ کورونر نے یہ بھی کہا کہ ممکنہ طور پر فالج کینسر کی وجہ سے ہوئے ہوں۔
انکوائری میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پیران دتا خان کی موت سے قبل ان پر حملے یا کسی قسم کے جسمانی تشدد کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
