وولورہیمپٹن: بچوں میں پلاسٹک بیگ سر پر رکھنے کا ایک خطرناک سماجی رجحان وولورہیمپٹن تک پہنچنے کی اطلاعات نے والدین میں تشویش پیدا کردی، ایک ماں نے اپنے بچے کے اس رجحان میں شامل ہونے کا علم ہونے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے دوسرے والدین کو خبردار کردیا۔
یہ خطرناک رجحان معروف بچوں کے کردار ’’کیٹ اِن دی ہیٹ‘‘ سے متاثر ہوکر سامنے آیا ہے، جس میں بچے پلاسٹک کا تھیلا سر پر رکھتے ہیں اور بعض اوقات اسے سر پر باندھنے یا پکڑ کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بظاہر تفریحی دکھائی دینے والا یہ عمل انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے، کیونکہ پلاسٹک کا تھیلا ناک اور منہ کو ڈھانپنے کی صورت میں سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے اور بچے کے لیے دم گھٹنے کا سنگین خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
وولورہیمپٹن کی ایک والدہ، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے بتایا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے بچے نے اس رجحان میں حصہ لیا تو وہ شدید غصے میں آگئیں۔ ان کے مطابق یہ کسی صورت مذاق نہیں بلکہ بچوں کی جان کے لیے خطرناک عمل ہے۔
والدہ نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں سے سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر گردش کرنے والے خطرناک رجحانات کے بارے میں بات کریں اور انہیں سمجھائیں کہ ہر مقبول چیلنج نقل کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔
ان کے مطابق بچے بعض اوقات ایسے رجحانات کے سنگین نتائج کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتے، خصوصاً جب کسی چیلنج میں چہرہ یا سر ڈھانپنے جیسی حرکت شامل ہو۔
اطلاعات کے مطابق یہ رجحان سماجی رابطوں کی مختلف ویب گاہوں پر گردش کررہا ہے، جہاں بچے اور نوجوان پلاسٹک کے تھیلے سر پر رکھ کر ویڈیوز بنا رہے ہیں۔ وولورہیمپٹن میں ایسے واقعات کی درست تعداد سامنے نہیں آئی، تاہم مذکورہ والدہ نے کم از کم ایک بچے کے اس عمل میں شامل ہونے کا ذکر کیا ہے۔
والدہ نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے اور انہیں یہ سمجھانا چاہیے کہ سماجی رابطوں پر دکھائی دینے والا ہر رجحان محفوظ نہیں ہوتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پلاسٹک کا تھیلا بچے کے لیے چند ہی لمحوں میں سانس رکنے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے والدین کو ایسے مواد کو معمولی سمجھنے کے بجائے فوری طور پر بچوں کو اس کے خطرات سے آگاہ کرنا چاہیے۔
مقامی حکام کی جانب سے تاحال اس رجحان کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم واقعے کے بعد والدین میں خطرناک آن لائن چیلنجز کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
والدہ نے امید ظاہر کی کہ ان کا تجربہ دوسرے خاندانوں کے لیے بروقت تنبیہ ثابت ہوگا اور والدین اپنے بچوں کو ایسے خطرناک رجحانات کی نقل کرنے سے روکنے کے لیے زیادہ محتاط رہیں گے۔
