نیپال: نیپال میں برف اور چٹانوں کے اچانک تودے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، مختلف علاقوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک جبکہ برطانوی شہریوں سمیت 384 سیاحوں کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔
حکام کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً 9 بجے بھوٹیکوشی دریا میں اچانک شدید طغیانی آگئی، جس کے نتیجے میں متعدد دیہات، سڑکیں اور پن بجلی کے منصوبے متاثر ہوئے۔ سیلابی ریلے نے راستے میں آنے والے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حکام نے نیپال کے مختلف اضلاع میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے بھوٹیکوشی، تریشولی اور نارایانی دریاؤں کے کناروں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔
نیپالی حکومت کے ترجمان سسمت پوکھریال کے مطابق امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے بھارت اور چین سے بھی تعاون طلب کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق لاپتا ہونے والے 384 سیاحوں میں سے 291 افراد برطانیہ، امریکا، بھارت، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان ممالک کے اعتبار سے لاپتا افراد کی الگ الگ تعداد نہیں بتائی گئی۔
سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ رسوا ضلع ہے، جہاں گزشتہ سال بھی اسی نوعیت کا تباہ کن سیلاب آیا تھا۔ گزشتہ برس پڑوسی علاقے تبت میں ایک برفانی جھیل کے پانی سے بھر جانے کے بعد سیلاب آیا تھا، جس میں 9 افراد ہلاک اور دونوں ممالک کو ملانے والے پل سمیت اہم بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا تھا۔
ماہرین کے مطابق بدھ کو آنے والے سیلاب کی ممکنہ وجہ کسی گلیشیئر سے برف اور چٹانوں کا اچانک تودہ گرنا ہے۔ کٹھمنڈو میں قائم پہاڑی ماحولیاتی تحقیق کے ادارے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھوٹیکوشی دریا کی معاون ندی لھینڈے کھولا میں غیر معمولی طغیانی دیکھی گئی۔
قدرتی آفات کے ماہر سسواتا سنیال کے مطابق لھینڈے کھولا ندی 14 ماہ کے دوران دوسری مرتبہ شدید طغیانی کا شکار ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس بار گلیشیئر سے برف اور چٹانوں کا تودہ گرنے کے باعث دریا کا راستہ متاثر ہوا اور اچانک پانی کا شدید ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث ہمالیائی خطہ شدید بارشوں، سیلاب اور زمین کھسکنے جیسے واقعات کے لیے پہلے سے زیادہ خطرے میں ہے۔ تحقیق کے مطابق ہندوکش ہمالیہ کے علاقے میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سال 2000 کے بعد برف کے پگھلنے کی رفتار تقریباً دگنی ہوچکی ہے۔
امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ حکام لاپتا سیاحوں اور مقامی افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں مزید سیلاب کے خطرے کے پیش نظر لوگوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
