تکبیر نیوز (ویک فیلڈ): مانچسٹر کی دو مساجد کے عملے کو فون کرکے قتل کی دھمکیاں دینے والے ویک فیلڈ کے 21 سالہ نوجوان گیبریئل لیوی کو عدالت نے 28 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
گیبریئل لیوی نے 4 اکتوبر 2025 کو مانچسٹر کے علاقے چیتھم ہل میں واقع السنہ مسجد میں گمنام فون کال کی اور فون اٹھانے والے شخص کو دھمکی دی کہ وہ مسجد آکر اسے قتل کردے گا۔
پولیس نے پہلی کال کے چند گھنٹے بعد ویک فیلڈ میں لیوی کے گھر پر کارروائی کی اور اس کا موبائل فون قبضے میں لے لیا۔
گرفتاری کے دوران لیوی نے اعتراف کیا کہ اس نے حالیہ خبروں میں دیکھی جانے والی صورتحال پر غصے میں آکر یہ کال کی تھی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کی دھمکی مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں تھی، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم پولیس کی مزید تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ لیوی نے اسی روز مانچسٹر کی اقرا مسجد میں بھی فون کیا تھا۔ اس نے مسجد کے ایک ملازم کو براہ راست قتل کی دھمکی دی۔
تحقیقات کے دوران لیوی کے موبائل فون سے اسلام مخالف اور نسل پرستانہ زبان پر مشتمل پیغامات کے علاوہ نفرت انگیز مواد بھی برآمد ہوا۔
کراؤن پراسیکیوشن سروس کے عامر سجاد نے کہا کہ کسی شخص کو صرف اپنا کام کرنے کی وجہ سے یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی جان خطرے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ گیبریئل لیوی نے دو مساجد کو خوفناک دھمکیاں دیتے وقت یہ نہیں سوچا کہ فون کے دوسری جانب موجود افراد پر اس کے الفاظ کا کیا اثر ہوگا۔
عامر سجاد کے مطابق لیوی کا یہ کہنا کہ اس کا کسی کو نقصان پہنچانے کا حقیقی ارادہ نہیں تھا، ان لوگوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا جنہیں ایسی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیوں اور اسلاموفوبک نفرت انگیز جرائم کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ایسے مقدمات میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
گیبریئل لیوی نے قتل کی دھمکیاں دینے کے جرم کا اعتراف کیا، جس کے بعد لیڈز کراؤن کورٹ نے اسے 28 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
