تکبیر نیوز — لندن:
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پرائمروز ہل (Primrose Hill) پر 21 سالہ فلم میکنگ کے طالبعلم کے قتل کے مقدمے میں ایک نوجوان نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات سے انکار کر دیا ہے۔
18 سالہ خالد عبدالقادر (Khalid Abdulqadir) نے اولڈ بیلی کورٹ میں پیش ہو کر اپنے خلاف عائد الزامات، جن میں ایک شخص کو شدید زخمی کرنے، پرتشدد ہنگامہ آرائی اور چاقو رکھنے کا الزام شامل ہے، مسترد کر دیے۔
استغاثہ کے مطابق 7 اپریل کو پرائمروز ہل میں نوجوانوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران 21 سالہ فنبار سلیوان (Finbar Sullivan) پر لاتوں، گھونسوں اور چاقو سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئے۔
عدالتی کارروائی کے دوران خالد عبدالقادر کو مقدمے کی سماعت تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔
اس مقدمے میں تین دیگر افراد پہلے ہی فنبار سلیوان کے قتل کے الزام میں عدالت کے سامنے خود کو بے قصور قرار دے چکے ہیں۔
فنبار سلیوان، جنہیں دوست "فن” کے نام سے جانتے تھے، لندن اسکرین اکیڈمی کے طالبعلم تھے۔ ان کے والد کے مطابق وہ اپنی سالگرہ پر ملنے والے نئے کیمرے کو آزمانے کے لیے پرائمروز ہل گئے تھے۔
عدالت کے مطابق اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت 5 جنوری آئندہ سال شروع ہوگی۔
نوٹ: مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور تمام ملزمان قانونی طور پر اس وقت تک بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں جب تک عدالت جرم ثابت نہ کر دے۔
