تکبیر نیوز — لندن:
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ایک خاتون نے اپنی مفلوج بہن کی دیکھ بھال میں سنگین غفلت برتنے کے باعث اس کی ہلاکت کے مقدمے میں عدالت کے سامنے جرم قبول کر لیا۔
55 سالہ مشیل نیل (Michelle Neill) نے اولڈ بیلی کورٹ میں اعتراف کیا کہ ان کی غفلت کے باعث ان کی 48 سالہ بہن کیلی نیل (Kelly Neill) کی موت واقع ہوئی، جس پر ان کے خلاف سنگین غفلت کے ذریعے غیر ارادی قتل (Gross Negligence Manslaughter) کا مقدمہ درج تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ 20 اکتوبر 2022 کو مشیل نیل نے جنوبی لندن کے علاقے ڈیپٹفورڈ (Deptford) میں واقع اپنے گھر ایمبولینس طلب کی، جہاں طبی عملے نے کیلی نیل کو انتہائی غیر صحت بخش ماحول میں فرش پر پڑا ہوا پایا۔ گھر میں ہر طرف گندگی، بوسیدگی اور سامان کا ڈھیر موجود تھا۔
کیلی نیل 2018 میں فالج کے باعث جزوی طور پر مفلوج ہو گئی تھیں، بولنے سے قاصر تھیں اور شدید تکلیف میں کراہ رہی تھیں۔ انہیں سینٹ تھامس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ 23 اکتوبر 2022 کو دم توڑ گئیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت کی وجہ سیپسس (Sepsis) تھی، جو جسم پر بننے والے متعدد زخموں (Bed Sores) میں انفیکشن پھیلنے کے باعث ہوئی۔
استغاثہ کے مطابق والدہ کی وفات کے بعد مشیل نیل اپنی بہن کی واحد نگہداشت کرنے والی بن گئی تھیں، مگر انہوں نے ضروری طبی امداد حاصل کرنے میں ناکامی دکھائی اور اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
جج رچرڈ مارکس نے سزا سنانے کا فیصلہ آئندہ کے لیے مؤخر کرتے ہوئے ملزمہ کی ضمانت برقرار رکھی ہے۔ سزا سنانے کی نئی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔
