تکبیر نیوز — برطانیہ:
برطانیہ کے علاقے ٹنٹ وِسل مور میں گزشتہ ہفتے بھڑکنے والی خوفناک جنگلاتی آگ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی، جبکہ فائر فائٹرز اب بھی متاثرہ علاقے میں آگ کے باقی ماندہ حصوں کو بجھانے میں مصروف ہیں۔
یہ آگ 24 جون کو بھڑکی تھی، جس کے بعد ڈربی شائر اور گریٹر مانچسٹر کی فائر اینڈ ریسکیو ٹیموں نے کئی روز تک مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ آگ کے باعث آسمان پر دھوئیں کے گھنے بادل چھا گئے اور وسیع رقبہ جل کر خاکستر ہوگیا۔
اگرچہ مرکزی آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے، تاہم یکم جولائی کو بھی امدادی ٹیمیں موقع پر موجود رہیں اور ڈِڈزبری اِن ٹیک کے قریب موجود گرم مقامات (Hotspots) کو بجھانے کے لیے آل ٹیرین گاڑی آرگوکیٹ (Argocat) کی مدد سے کارروائیاں جاری رکھیں۔
ڈربی شائر فائر اینڈ ریسکیو سروس کے مطابق آگ کو لگے اب سات دن ہو چکے ہیں، جبکہ پیک ڈسٹرکٹ آپریشنز گروپ بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کروڈن (Crowden) اور بلیک ہِل (Black Hill) کے درمیان پینائن وے (Pennine Way) کا حصہ بدستور بند ہے، لہٰذا شہری اس علاقے میں جانے سے گریز کریں۔
آگ کے ابتدائی دنوں میں ووڈہیڈ پاس کو دونوں اطراف سے بند کرنا پڑا تھا، جبکہ قریبی علاقوں ہیڈفیلڈ، موٹرم اور گلاسوپ کے رہائشیوں کو دھوئیں کے باعث کھڑکیاں اور دروازے بند رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
شدید دھواں اتنی دور تک پھیل گیا تھا کہ کرمپسال، بولٹن، بیوری، اولڈہم اور روچڈیل سمیت متعدد علاقوں کے رہائشیوں نے بھی اس کی بو محسوس ہونے کی شکایات کیں۔
حکام کے مطابق آگ سے تقریباً 200 ہیکٹر مور لینڈ شدید متاثر ہوا، جبکہ اگرچہ آگ کو گزشتہ جمعہ محدود کر دیا گیا تھا، لیکن بعض حصوں میں اب بھی سلگنے کا عمل جاری ہے۔
