تکبیر نیوز — دبئی:
دبئی میں قتل کے مقدمے میں گرفتار برطانوی ٹک ٹاکر 23 سالہ بروک جارج (Brooke George) کے کیس میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے، جہاں مہم چلانے والی تنظیم Detained in Dubai نے ممکنہ نئے گواہوں اور موبائل فون شواہد کی فوری جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
بروک جارج پر گزشتہ ہفتے دبئی کے ایک اپارٹمنٹ میں 26 سالہ ولیم ٹریبی (William Treeby) کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بروک کا مؤقف ہے کہ انہوں نے مبینہ حملے کے دوران اپنے دفاع میں کارروائی کی تھی۔ مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے اور کسی عدالت نے ان پر جرم ثابت نہیں کیا۔
تنظیم Detained in Dubai کے مطابق واقعے کے وقت اپارٹمنٹ میں پانچ افراد موجود تھے، جن میں بروک جارج، ولیم ٹریبی، اس کے دو دوست اور ایک گھریلو ملازمہ شامل تھے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ان افراد کے موبائل فونز میں موجود معلومات، کال ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد واقعے کی مکمل ٹائم لائن مرتب کرنے اور مزید ممکنہ گواہوں کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تنظیم کی چیف ایگزیکٹو رادھا اسٹرلنگ نے بتایا کہ انہوں نے اس کیس سے متعلق معلومات برطانوی حکومت، برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (FCDO)، متحدہ عرب امارات کے حکام اور برطانیہ میں اماراتی سفیر کو فراہم کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کسی برطانوی شہری کو بیرونِ ملک انتہائی سنگین مقدمے کا سامنا ہو تو ضروری ہے کہ تمام ممکنہ شواہد محفوظ کیے جائیں اور ہر پہلو سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
دوسری جانب برطانوی دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں زیرِ حراست ایک برطانوی خاتون کے معاملے میں ان کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے اور مقامی حکام سے بھی مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔
ادھر بروک جارج کی والدہ تھریزا جارج کا کہنا ہے کہ واقعے سے ایک روز قبل فون پر بات کرتے ہوئے ان کی بیٹی شدید خوفزدہ اور پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ ان کے مطابق واقعے کے بعد بروک مسلسل رو رہی تھیں اور ان کی ایک آنکھ پر نمایاں سوجن بھی تھی۔
نوٹ: اس مقدمے کی عدالتی کارروائی جاری ہے اور الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں۔
