(تکبیر نیوز—- برطانیہ، لندن) برطانوی وزیراعظم Keir Starmer کیئر اسٹارمر نے بلدیاتی انتخابات میں بدترین شکست اور پارٹی کے اندر بڑھتے دباؤ کے بعد قوم سے اہم خطاب کرتے ہوئے استعفے کے مطالبات مسترد کر دیے اور متعدد بڑے اعلانات کیے۔
وزیراعظم نے پیر کی صبح ڈاؤننگ اسٹریٹ سے تقریباً 20 منٹ طویل خطاب کیا جبکہ بعد ازاں صحافیوں کے سوالات کے بھی جوابات دیے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ پارٹی کے اندر ان پر شکوک پائے جاتے ہیں لیکن وہ اپنے ناقدین کو غلط ثابت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ “چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اب کافی نہیں رہیں، برطانیہ کو معیشت، دفاع، توانائی اور یورپ کے معاملات میں پہلے سے کہیں بڑے فیصلوں کی ضرورت ہے۔”
وزیراعظم نے کہا کہ لیبر پارٹی صرف ریفارم یوکے اور گرین پارٹی کا سیاسی مقابلہ نہیں کر رہی بلکہ عوام میں پائی جانے والی مایوسی اور بے یقینی کا سامنا بھی کر رہی ہے۔
نائجیل فراج اور گرین پارٹی پر تنقید
کیئر اسٹارمر نے Nigel Farage نائجیل فراج اور گرین پارٹی رہنما Zack Polanski زیک پولانسکی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رہنما برطانیہ کو سنجیدہ اور مثبت قیادت فراہم نہیں کر سکتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر لیبر حکومت نہ ہوتی تو بعض جماعتیں برطانیہ کو ایران کے ساتھ جنگ کی طرف دھکیل دیتیں۔
برٹش اسٹیل کو قومی تحویل میں لینے کا اعلان
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ حکومت اس ہفتے قانون سازی لا رہی ہے جس کے ذریعے برٹش اسٹیل کو قومی تحویل میں لینے کے اختیارات حاصل کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسکن تھورپ اسٹیل پلانٹ کو بند ہونے سے بچانا حکومت کے اہم ترین اقدامات میں شامل تھا اور اب برطانیہ کی معاشی سلامتی کیلئے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
یورپی یونین کے ساتھ نوجوانوں کیلئے نیا منصوبہ
کیئر اسٹارمر نے یورپی یونین کے ساتھ نوجوانوں کیلئے نئے “یوتھ ایکسپیرینس اسکیم” کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ بریگزٹ کے بعد نوجوانوں سے یورپ میں آسانی سے تعلیم، ملازمت اور رہائش کے مواقع چھن گئے تھے، اب حکومت نوجوانوں کیلئے بہتر مواقع پیدا کرنا چاہتی ہے۔
اینڈی برنہم کی واپسی پر ردعمل
وزیراعظم نے Andy Burnham اینڈی برنہم کے ممکنہ طور پر پارلیمنٹ میں واپسی کے سوال پر کہا کہ وہ ان کے ساتھ اچھا کام کرتے ہیں تاہم مستقبل کا فیصلہ پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی۔
استعفے کے مطالبات مسترد
اسکائی نیوز کی صحافی کے سوال پر کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ وہ قیادت چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ وہ ملک کو سیاسی افراتفری میں نہیں دھکیلنا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ “ہم ریفارم یا گرین پارٹی کی کمزور نقل بن کر کامیاب نہیں ہو سکتے بلکہ ایک مضبوط مرکزی دھارے کی لیبر پارٹی کے طور پر آگے بڑھیں گے۔”
دائیں بازو کے شدت پسندوں پر پابندی کا اعلان
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ حکومت ہفتے کے روز ہونے والے ایک متنازعہ مظاہرے کیلئے دائیں بازو کے شدت پسند عناصر کو برطانیہ آنے سے روکے گی۔
انہوں نے کہا کہ نفرت پھیلانے اور کمیونٹیز کو خوفزدہ کرنے والوں کو برطانیہ کی سڑکوں پر انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کیئر اسٹارمر کے خطاب کو ان کی سیاسی بقا کیلئے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق لیبر پارٹی کے متعدد ارکان اب بھی قیادت میں تبدیلی کے حامی ہیں۔
