تکبیر نیوز (لندن):
سابق کیمبرج یونیورسٹی پروفیسر جیسن آرڈے کی یادداشتوں پر مبنی کتاب “Great and Unfortunate Things” ان کی وفات کے بعد برطانیہ میں شائع کردی گئی۔
کتاب میں جیسن آرڈے نے اپنی زندگی کے سفر کو بیان کیا ہے۔ وہ بچپن میں آٹزم کے باعث بول نہیں پاتے تھے اور انہیں نوعمری کے آخری برسوں میں پڑھنا سیکھنے کا موقع ملا، بعد ازاں وہ کیمبرج یونیورسٹی کی تاریخ کے کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر بنے۔
جیسن آرڈے کی عمر 41 سال تھی اور رواں ماہ انہیں جنوبی لندن میں واقع اپنے گھر میں اہل خانہ نے بے ہوش حالت میں پایا تھا۔ ان کی موت کے معاملے میں کورونر نے غیر فطری موت کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
کتاب کی اشاعت پر اہل خانہ کا مؤقف
پبلشر Simon & Schuster نے جیسن آرڈے کے اہل خانہ کی خواہش کے مطابق کتاب شائع کی ہے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جیسن اپنی زندگی کے آخری وقت تک چاہتے تھے کہ ان کی یادداشتیں شائع ہوں، اس لیے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے کتاب قارئین تک پہنچائی گئی ہے۔
خاندان کے مطابق جیسن نے اپنی زندگی تعلیم کے فروغ، تعلیمی مواقع میں توسیع، نسلی عدم مساوات کے خلاف جدوجہد اور آٹزم و نیورو ڈائیورسٹی کے بارے میں آگاہی کے لیے وقف کی۔
تعلیمی کیریئر پر الزامات اور تحقیقات
جیسن آرڈے کی موت سے قبل ان کے تعلیمی کیریئر کے حوالے سے مختلف الزامات سامنے آئے تھے، جن میں ان کے پی ایچ ڈی مقالے اور دیگر تحقیقی کام میں سرقۂ علمی کے دعوے بھی شامل تھے۔
تاہم Liverpool John Moores University کی جانب سے پہلے کی گئی تحقیقات میں انہیں کسی غلطی کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا تھا۔ بعد ازاں کیمبرج یونیورسٹی نے ان کی تقرری کے حوالے سے تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔
یاد میں فنڈ ریزنگ، دو لاکھ 24 ہزار پاؤنڈ جمع
جیسن آرڈے کی وفات کے بعد ان کے خاندان کی مدد کے لیے شروع کی گئی فنڈ ریزنگ مہم میں £224,474 جمع ہوئے۔
یہ مہم سر پیٹرک ورنن نے شروع کی تھی اور اس میں 7,900 سے زائد افراد نے عطیات دیے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ عوام کی جانب سے ملنے والی محبت اور حمایت نے انہیں گہرے صدمے کے دوران حوصلہ دیا۔
خاندان نے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جیسن کی زندگی سے متاثر ہونے والے افراد کی بڑی تعداد ان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
جیسن آرڈے کی موت کی تحقیقات جاری
ان کی موت کے حوالے سے بدھ کو ہونے والی انکوائری میں بتایا گیا کہ کورونر کو دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر موت کو غیر فطری قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کرنا ضروری سمجھا گیا۔
کورونر نے میڈیا سے بھی محتاط انداز میں رپورٹنگ کرنے کی اپیل کی، خصوصاً اس لیے کہ کسی معروف شخصیت کی موت کی خبریں حساس افراد پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔
جیسن آرڈے کی کتاب “Great and Unfortunate Things” اب ان کی زندگی، جدوجہد اور تعلیمی سفر کی ایک اہم یادگار کے طور پر قارئین کے سامنے آچکی ہے۔
