تکبیر نیوز — برمنگھم: ہینڈزورتھ وڈ سے تعلق رکھنے والی 45 سالہ برطانوی خاتون ایمان الشاذلی گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے مصر میں زیرِ حراست ہیں، جبکہ ان کے اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ان کی بہن کو خاموش کرانے کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ایمان الشاذلی رواں ماہ کے آغاز میں قاہرہ میں اپنی والدہ کے گھر پر کارروائی کے دوران حراست میں لی گئیں۔ وہ تقریباً دو ماہ قبل اپنی بیمار والدہ کی دیکھ بھال کے لیے برطانیہ سے مصر گئی تھیں، جبکہ اس سے قبل ان کے دو بھائیوں کو بھی گرفتار کیا جاچکا تھا۔
ایمان کے شوہر زیشان مصطفیٰ نے بتایا کہ خاندان کو خدشہ ہے کہ مصری حکام ایمان کی گرفتاری کے ذریعے ان کی بہن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کی بہن برمنگھم میں مقیم ہیں اور مصری حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں، جبکہ یوٹیوب پر بھی ان کے بڑی تعداد میں فالوورز ہیں۔
شوہر کے مطابق ایمان کو 10 رمضان بحالی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں 17 اگست کے بعد سے ایمان سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔
زیشان مصطفیٰ نے بتایا کہ کارروائی کے دوران گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور اہل خانہ کو مبینہ طور پر بہن کو خاموش رہنے کے لیے کہنے کا دباؤ دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اگلے روز ایمان نے فون پر اطلاع دی کہ گھر کا دروازہ توڑا جا رہا ہے، جس کے بعد انہیں چیختے ہوئے سنا گیا کہ "وہ مجھے لے جانے والے ہیں” اور پھر فون اچانک بند ہوگیا۔
خاندان کے مطابق ایمان کی ایک اور بہن کو بھی اگلے روز حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد چار بہن بھائی اب زیرِ حراست ہیں۔ ایمان ان سب میں واحد برطانوی شہری ہیں۔
قانونی اور سفارتی کوششیں
خاندان نے قانونی مدد حاصل کرلی ہے اور برطانوی حکومت سے بھی مداخلت کی اپیل کی ہے۔
ایمان کے وکیل عرفان رشید کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان کو ان کی بہن کو خاموش کرانے کے لیے گرفتار کیا گیا۔
خاندان کی جانب سے قانونی نمائندگی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے چندہ مہم بھی شروع کی گئی ہے، جس کا ہدف 9 ہزار پاؤنڈ مقرر کیا گیا ہے۔
وکیل عرفان رشید نے کہا کہ ایمان کے اہل خانہ ان کی سلامتی اور خیریت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور ان کی موجودگی، قانونی حقوق اور رہائی کے لیے فوری قانونی و سفارتی مدد چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خاندان اس مشکل وقت میں برطانوی حکومت، برطانوی مصری کمیونٹی اور دیگر افراد سے تعاون کی اپیل کر رہا ہے۔
دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں زیرِ حراست برطانوی شہری کے خاندان کو مدد فراہم کی جا رہی ہے اور حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔
