تکبیر نیوز — لندن: شمالی لندن کے ایک اسکول میں 1980 کی دہائی کے دوران پڑھانے والی سابق کیمسٹری ٹیچر سیلی این بوون کو دو کم عمر طالب علموں سے جنسی تعلقات اور نامناسب جنسی رویے کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔
65 سالہ سیلی این بوون کرائسٹ کالج، فنچلے میں کیمسٹری پڑھاتی تھیں۔ استغاثہ کے مطابق اس وقت دونوں طالب علموں کی عمریں تقریباً 14 سے 15 سال تھیں، جبکہ بوون کی عمر 20 کی دہائی کے وسط میں تھی۔
ہیرو کراؤن کورٹ میں جمعرات کو جیوری نے تقریباً 6 گھنٹے 29 منٹ غور کے بعد اکثریتی فیصلے کے ذریعے بوون کو جنسی زیادتی کی 7 دفعات میں مجرم قرار دیا۔
عدالت میں ایک متاثرہ شخص نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ٹیچر کے ساتھ کئی ماہ تک جنسی تعلقات رہے اور اس دوران تقریباً 20 سے 30 مرتبہ جنسی تعلق قائم ہوا۔ اس نے بتایا کہ وہ بوون کے گھر بھی جاتا تھا اور اسے اپنی گرل فرینڈ سمجھتا تھا۔
متاثرہ شخص نے عدالت کو بتایا کہ اس نے یہ تعلق کسی کو نہیں بتایا کیونکہ اسے محسوس ہوتا تھا کہ اسے ٹیچر کو "محفوظ” رکھنا ہے۔ اس کے مطابق بوون نے اسے بار بار کسی کو کچھ نہ بتانے پر زور دیا تھا۔
اس نے عدالت میں کہا کہ وہ کئی سال تک خاموش رہا، جس کے باعث بوون تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
دوسرے متاثرہ شخص نے بتایا کہ اس نے ایک کیفے میں بوون کو ایک مرتبہ بوسہ دیا تھا، جس کے لیے اسے دوسرے لڑکوں کی جانب سے اکسایا گیا تھا۔
مقدمے کے دوران عدالت کو سابق طالب علم ٹوبیاس اولیور نے بھی بتایا کہ بوون کا اسکول میں لباس اور رویہ بعض اوقات "جنسی نوعیت” کا ہوتا تھا۔
اس نے الزام لگایا کہ کلاس میں گفتگو کئی مرتبہ کیمسٹری سے ہٹ کر جنسی موضوعات تک پہنچ جاتی تھی اور بوون طلبہ کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بے تکلف رویہ اختیار کرتی تھیں۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایک موقع پر ایک طالب علم کے پاس جنسی موضوعات پر مبنی کتاب تھی، جس پر بوون نے طلبہ کے ساتھ مختلف جنسی معاملات پر گفتگو کی۔
بوون نے مقدمے کے دوران تمام الزامات کو "مکمل طور پر من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ایک طبی مسئلہ لاحق تھا جو اس وقت تشخیص نہیں ہوا تھا اور جس کی وجہ سے جنسی تعلق ان کے لیے مشکل اور تکلیف دہ تھا۔
عدالت نے بوون کو سزا سنانے تک ضمانت دے دی ہے۔ ان کی سزا سے متعلق سماعت 20 نومبر کو ہوگی۔
