تکبیر نیوز — برطانیہ: برطانیہ میں ونٹر فیول ادائیگی کے نئے آمدنی سے منسلک نظام کے باعث تقریباً 30 لاکھ پنشنرز اب اس امداد کے اہل نہیں رہے، جبکہ 35 ہزار پاؤنڈ سالانہ آمدن کی حد مقرر کی گئی ہے۔
ونٹر فیول ادائیگی پہلے 65 سال سے زائد عمر کے تمام پنشنرز کو دی جاتی تھی، تاہم لیبر حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اس اسکیم میں تبدیلی کی گئی اور اب ادائیگی آمدنی سے منسلک کردی گئی ہے۔
نئے قواعد کے تحت جن پنشنرز کی مجموعی سالانہ آمدن 35 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہے، وہ ونٹر فیول ادائیگی کی رقم اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گے۔
حکومت کے مطابق اہل پنشنرز کو رقم عام طور پر خودکار طریقے سے ملے گی، تاہم اگر کسی پنشنر کی آمدن مقررہ حد سے زیادہ ہوئی تو ایچ ایم آر سی یہ رقم بعد میں پنشن کی ادائیگیوں سے قسطوں کی صورت میں واپس وصول کرے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد کم آمدنی والے اور زیادہ ضرورت مند پنشنرز کو موسم سرما میں توانائی کے بڑھتے اخراجات سے نمٹنے کے لیے مدد فراہم کرنا ہے، جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کو یہ رقم دینے سے گریز کیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق 27 جون 1960 یا اس سے پہلے پیدا ہونے والے افراد موسم سرما 2026-27 کے لیے 100 سے 300 پاؤنڈ تک ونٹر فیول ادائیگی حاصل کرسکتے ہیں۔
اہل افراد کو اکتوبر یا نومبر میں خط کے ذریعے بتایا جائے گا کہ انہیں کتنی رقم ملے گی، جبکہ زیادہ تر ادائیگیاں نومبر یا دسمبر 2026 میں کی جائیں گی۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ آمدن کی جانچ فرد کی اپنی آمدن کی بنیاد پر ہوگی۔ شریکِ حیات کی آمدن کو اس مقصد کے لیے شامل نہیں کیا جائے گا۔
نئے نظام کے نتیجے میں تقریباً 30 لاکھ 65 سال سے زائد عمر کے پنشنرز اس امداد سے محروم ہوں گے جو پہلے آمدن سے قطع نظر تمام اہل پنشنرز کو دستیاب تھی۔
