تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کی شرح میں ایک بار پھر کمی سامنے آگئی، جبکہ لندن میں بچوں کی ویکسینیشن کی شرح انگلینڈ کے کم ترین علاقوں میں شامل ہے۔ حکام نے والدین سے بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا ریکارڈ چیک کرنے اور رہ جانے والی ویکسین مکمل کروانے کی اپیل کی ہے۔
برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق پرائمری اسکول شروع کرنے والے بچوں میں حفاظتی ٹیکوں کی شرح میں کچھ استحکام کے آثار ضرور نظر آئے ہیں، تاہم تمام بچوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق بچوں کی ویکسینیشن کی شرح اب بھی عالمی ادارۂ صحت کے 95 فیصد ہدف سے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آبادی کی بڑی تعداد کا حفاظتی ٹیکے لگوانا ضروری ہے۔
اہم ویکسینز کی شرح میں کمی
مارچ 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کی عمر کے بچوں میں چھ بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین کی شرح 90.8 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.9 فیصد کم ہے۔
روٹا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کی شرح 88.7 فیصد جبکہ نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین کی پہلی خوراک کی شرح 92.4 فیصد رہی۔
میننجائٹس بی سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کی شرح بھی کم ہو کر 90.8 فیصد رہ گئی۔
دو سال کی عمر تک پہنچنے والے بچوں میں میننجائٹس بی کی اضافی خوراک لینے کی شرح 87.4 فیصد جبکہ نمونیا سے بچاؤ کی اضافی خوراک کی شرح 88 فیصد رہی۔
خسرہ، ممپس اور روبیلا سے بچاؤ کی ایم ایم آر ویکسین کی پہلی خوراک لینے والے بچوں کی شرح بھی ایک فیصد کم ہو کر 88.3 فیصد رہ گئی۔
لندن میں شرح کم ہونے پر تشویش
تازہ اعداد و شمار لندن کے لیے خاص طور پر اہم قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ دارالحکومت میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کی شرح انگلینڈ کے کئی دوسرے علاقوں کے مقابلے میں کم ہے۔
حکام کے مطابق زیادہ محروم علاقوں میں بھی بچوں کی ویکسینیشن کی شرح عموماً کم رہتی ہے۔
تاہم پرائمری اسکول شروع کرنے والے بچوں کے حوالے سے کچھ مثبت اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں۔
ملک بھر میں پانچ سال کی عمر کے 83.8 فیصد بچوں کو ایم ایم آر ویکسین کی دونوں خوراکیں لگ چکی تھیں، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 83.7 فیصد تھی۔
اسی طرح پرائمری اسکول کے ابتدائی درجے میں داخل ہونے والے 92.9 فیصد بچوں کو چھ بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین لگ چکی تھی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 92.8 فیصد تھی۔
والدین سے بچوں کا ویکسین ریکارڈ چیک کرنے کی اپیل
برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی ڈائریکٹر برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر میری ریمزے نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا ریکارڈ چیک کریں اور اگر کوئی ویکسین رہ گئی ہو تو اپنے خاندانی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
ڈاکٹر میری ریمزے کے مطابق زیادہ تر بچپن کی ویکسین بعد میں بھی لگوائی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں خسرہ اور ڈفتھیریا جیسی بیماریوں سے بڑی تعداد میں بچوں کی جانیں ضائع ہوتی تھیں، لیکن آج ویکسین کی بدولت ان میں سے کئی بیماریوں سے بچوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ بچوں کے حفاظتی ٹیکے ہر سال دسوں ہزار بچوں کو سنگین بیماریوں کے باعث اسپتال پہنچنے سے بچاتے ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ ویکسینیشن پروگرام میں کچھ استحکام کے آثار حوصلہ افزا ہیں، تاہم تمام بچوں کو ان کی کم عمری میں سنگین بیماریوں سے مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔
