تکبیر نیوز (برمنگھم):
برمنگھم کے علاقے ڈگبتھ میں کاروباری اداروں نے مجوزہ ریل منصوبے کے باعث کاروباروں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا آزادانہ معاشی جائزہ کرانے کا مطالبہ کردیا ہے۔
ڈگبتھ بزنس امپروومنٹ ڈسٹرکٹ نے کہا ہے کہ مڈلینڈز ریل ہب منصوبے کے حوالے سے جاری پہلی عوامی مشاورت ختم ہونے سے قبل کاروباروں کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
عوامی مشاورت جمعہ 28 اگست کو ختم ہورہی ہے۔
کاروبار بند ہونے کا خدشہ
ڈگبتھ کے متعدد موسیقی اور تفریحی مراکز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بورڈزلے وایاڈکٹ کو چوڑا کرنے کا منصوبہ آگے بڑھا تو تعمیراتی کاموں کے باعث بعض کاروباروں کو 2030 تک بندش کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
مقامی کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی ایچ ایس ٹو اور ایسٹ سائیڈ میٹرو توسیعی منصوبے کے باعث کئی برس سے تعمیراتی سرگرمیوں، سڑکوں کی بندش اور آمدورفت میں تبدیلیوں سے متاثر ہورہے ہیں۔
کاروباری نمائندوں کے مطابق مسلسل جاری منصوبوں اور غیر یقینی صورتحال نے علاقے میں کاروبار، سرمایہ کاری اور ملازمتوں پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔
دو اہم مطالبات سامنے آگئے
ڈگبتھ کے کاروباری نمائندوں نے متعلقہ حکام کے سامنے دو اہم مطالبات رکھے ہیں۔
پہلا مطالبہ ہے کہ کاروباروں اور مقامی معیشت پر ریل منصوبے کے ممکنہ اثرات کا آزادانہ جائزہ فوری شروع کیا جائے تاکہ موجودہ صورتحال کا باقاعدہ ریکارڈ تیار ہوسکے۔
دوسرا مطالبہ ہے کہ اگلے مرحلے کی عوامی مشاورت سے قبل منصوبے کے مختلف ممکنہ راستوں، متبادل تجاویز اور ان کی قابلِ عمل ہونے سے متعلق مکمل تجزیہ عوام کے سامنے لایا جائے۔
اگلی مشاورت 2027 میں متوقع ہے۔
ڈگبتھ کاروباروں کی آواز سنی جائے، چیئرپرسن
ڈگبتھ بزنس امپروومنٹ ڈسٹرکٹ کی چیئرپرسن ایما ریلی نے کہا کہ وہ ویسٹ مڈلینڈز میں سرمایہ کاری اور بہتر ریل رابطوں کی حمایت کرتی ہیں، تاہم ترقی کے نام پر پہلے سے موجود کاروباروں اور مقامی آبادی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈگبتھ پہلے ہی ایچ ایس ٹو اور ایسٹ سائیڈ میٹرو منصوبے کے باعث طویل عرصے تک تعمیراتی رکاوٹوں سے گزر چکا ہے۔
ایما ریلی نے کہا کہ کاروباروں پر اثرات کا جائزہ ابھی لیا جانا چاہیے، جب کاروبار فعال ہیں، تاکہ حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر آئندہ فیصلے کیے جاسکیں۔
حکام سے تعاون کی اپیل
ڈگبتھ بزنس امپروومنٹ ڈسٹرکٹ نے برمنگھم سٹی کونسل، شبانہ محمود رکنِ پارلیمنٹ اور ویسٹ مڈلینڈز کے میئر رچرڈ پارکر سے بھی مطالبے کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔
مقامی کاروباری اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ جمعہ 28 اگست کو مشاورت ختم ہونے سے قبل مجوزہ ریل منصوبے کے بارے میں اپنی رائے حکام تک پہنچائیں۔
