تکبیر نیوز (برمنگھم):
برمنگھم کے علاقے پیری بار میں شدید بارش اور سیلابی پانی کے باعث ایک نیا پب کئی روز کیلئے بند کردیا گیا ہے، جبکہ سیلابی پانی داخل ہونے کے بعد متعدد گاہک کئی گھنٹوں تک پب کے اندر پھنسے رہے۔
چرچ ٹورن نامی پب کو بدھ کی شام ہونے والی شدید بارش اور گرج چمک کے طوفان کے دوران سیلابی پانی نے گھیر لیا۔
پب کو کھلے ہوئے ابھی تقریباً پانچ ہفتے ہی ہوئے تھے۔
گاہک کئی گھنٹے پب کے اندر پھنسے رہے
سیلابی پانی پب کے دروازوں سے اندر داخل ہوگیا اور فرش پر ٹخنوں تک کیچڑ والا پانی جمع ہوگیا۔
پب کے عملے نے پانی کو بار کے اندر پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی، جبکہ گاہکوں کو اس وقت تک اندر ہی رکھا گیا جب تک ان کا باہر نکلنا محفوظ قرار نہیں دے دیا گیا۔
پب کی انتظامیہ کے مطابق پانی کم ہونے تک گاہکوں کو کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑا۔
چرچ ٹورن کی مینیجر سارہ پیڈوک نے بتایا کہ پب کے نیچے سے گزرنے والے نالے میں پانی کی سطح بڑھنے کے بعد صورتحال اچانک خراب ہوگئی۔
ان کے مطابق پانی کار پارک میں دریا کی طرح بہنے لگا اور پب کے دوسرے سرے پر موجود بچوں کے کھیل کے علاقے میں بھی داخل ہوگیا۔
پب میں بجلی کا نظام متاثر
سیلاب کے باعث پب کو نقصان پہنچا ہے اور صفائی و مرمت کا کام بھی درکار ہے۔
پب کی انتظامیہ کے مطابق اس وقت بیئر مشینوں کی بجلی بھی بند ہے، جس کے باعث کاروبار فوری طور پر دوبارہ شروع کرنا ممکن نہیں۔
سارہ پیڈوک نے کہا کہ پب کو کئی روز تک بند رکھنا پڑے گا، جو انتظامیہ کیلئے خاص طور پر افسوسناک ہے کیونکہ کاروبار شروع ہوئے ابھی صرف پانچ ہفتے ہوئے تھے۔
انہوں نے مقامی لوگوں کی جانب سے ملنے والی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پب بند نہیں کرنا چاہتے، تاہم لوگوں کی حفاظت سب سے اہم ہے۔
کھیل کا نیا حصہ بھی متاثر
سیلاب سے پب کے اندر بنایا جانے والا بچوں کا کھیل کا علاقہ بھی متاثر ہوا ہے۔
یہ حصہ آئندہ چند ہفتوں میں کھولا جانا تھا، تاہم سیلاب کے باعث اب اس کی افتتاحی تاریخ بھی آگے بڑھانا پڑے گی۔
متعدد سڑکیں اور گھر بھی زیرِ آب
پیری بار میں چرچ ٹورن کے علاوہ کئی دیگر مقامات بھی شدید سیلاب سے متاثر ہوئے۔
تھورن برج ایونیو، ہیڈن روڈ اور کربر روڈ پر متعدد گھروں اور گاڑیوں میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں شہریوں نے سڑکوں سے پانی صاف کرنے کی کوشش کی جبکہ بعض رہائشیوں نے اپنے پڑوسیوں کو گھروں کے دروازے بند رکھنے کی ہدایت کی تاکہ سڑک پر گاڑیوں کی وجہ سے بننے والی پانی کی لہریں گھروں میں داخل نہ ہوں۔
ویسٹ مڈلینڈز فائر سروس کے مطابق سیلاب سے نمٹنے کیلئے چھ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں موجود رہیں، جبکہ ویسٹ مڈلینڈز پولیس اور برمنگھم سٹی کونسل نے بھی امدادی کارروائیوں میں تعاون کیا۔
فائر سروس نے شہریوں سے اپیل کی کہ جہاں ممکن ہو متاثرہ علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔
