برطانیہ: لاکربی بم دھماکے میں 270 افراد کے قتل کے الزام کا سامنا کرنے اور بعد ازاں بری ہونے والا لیبیائی شہری الامین خلیفہ فحیمہ 70 برس کی عمر میں انتقال کرگیا۔
الامین خلیفہ فحیمہ پر دسمبر 1988 میں پین ایم پرواز 103 کو بم دھماکے سے تباہ کرنے کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ اس طیارے میں سوار تمام افراد سمیت مجموعی طور پر 270 افراد اس سانحے میں ہلاک ہوئے تھے۔
فحیمہ نے لاکربی بم دھماکے کے مقدمے کا سامنا کیا تھا۔ لیبیا کی فضائی کمپنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان کے انتقال کی اطلاع دی۔ فحیمہ نے لاکربی سانحے سے قبل مالٹا میں لیبیا کی فضائی کمپنی کے لیے کام کیا تھا۔
ان کی نماز جنازہ آج 26 اگست کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ادا کیے جانے کی اطلاع ہے۔
فحیمہ کا انتقال ایسے وقت میں ہوا ہے جب لاکربی سانحے سے متعلق ایک اور اہم مقدمہ بھی تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ بم تیار کرنے کے الزام میں گرفتار سابق لیبیائی انٹیلی جنس اہلکار ابو عقیلہ مسعود کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے چند روز قبل ملتوی کردی گئی ہے۔
ابو عقیلہ مسعود پر الزام ہے کہ اس نے وہ بم تیار کیا تھا جس کے نتیجے میں پین ایم پرواز 103 تباہ ہوئی۔ وہ اس الزام سے انکار کرچکا ہے۔ اس مقدمے کے لیے جیوری کے ارکان کا انتخاب 26 اگست کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں شروع ہونا تھا۔
لاکربی بم دھماکے کے حوالے سے اب تک صرف سابق لیبیائی انٹیلی جنس اہلکار عبدالباسط المقرحی کو سزا سنائی گئی ہے۔ 2001 میں ہیگ میں قائم خصوصی عدالت میں تین سکاٹش ججوں کے پینل نے انہیں 270 افراد کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔
المقرحی کو اس کے بعد اسکاٹ لینڈ کی جیل بھیج دیا گیا، تاہم 2009 میں انہیں آخری درجے کے سرطان کی تشخیص کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متنازع طور پر رہا کردیا گیا تھا۔ وہ رہائی کے بعد لیبیا واپس چلے گئے جہاں 2012 میں ان کا انتقال ہوگیا۔
لاکربی سانحہ جدید تاریخ کے بدترین فضائی دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے اثرات کئی دہائیوں بعد بھی قانونی کارروائیوں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کی کوششوں کی صورت میں جاری ہیں۔
