تکبیر نیوز — برمنگھم: ہینڈز ورتھ میں تقریباً تین سال قبل ایک شخص پر حملے کے کیس میں عدالت نے دو ملزمان کو مختلف جرائم کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والے 38 سالہ لبن حسین کی بعد ازاں اسپتال میں موت ہوگئی تھی۔
لبن حسین پر ستمبر 2022 میں ہینڈز ورتھ کی واٹ وِل روڈ پر حملہ کیا گیا تھا۔ تفتیش کے مطابق حملہ 74 نمبر بس پر ہونے والے ایک جھگڑے کے بعد پیش آیا، جہاں لبن حسین کو پہلے مکا مارا گیا اور پھر سر پر لات ماری گئی۔
حملے کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں گڈ ہوپ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ گزشتہ سال جولائی میں برونکیل نمونیا کے باعث انتقال کرگئے۔
اس مقدمے میں 39 سالہ جان گتھری کو ناٹنگھم کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے بعد قتلِ خطا کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔
دوسرے ملزم کرسٹیان ہینز، عمر 33 سال، کو سیکشن 20 کے تحت شدید جسمانی نقصان پہنچانے کا مجرم قرار دیا گیا، تاہم اسے قتلِ خطا کے الزام سے بری کردیا گیا۔
پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ دونوں ملزمان نے لبن حسین پر حملے میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر حصہ لیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق سر پر ماری جانے والی لات، جو گتھری نے ماری، وہی جان لیوا ثابت ہوئی، جبکہ ہینز نے متاثرہ شخص کو مکا مارا تھا۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے تفتیشی افسر ایڈ جارج نے کہا کہ لبن حسین کی موت ایک افسوسناک واقعہ ہے اور پولیس نے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مسلسل کام کیا۔
دونوں ملزمان کو اگلے ماہ سزا سنائی جائے گی۔
