تکبیر نیوز (ٹیم ورتھ): ٹیم ورتھ میں اپنی 60 سالہ اہلیہ کرسٹینا الیگزینڈر کو کم از کم 77 مرتبہ چاقو مار کر قتل کرنے والے شوہر 66 سالہ رابرٹ الیگزینڈر کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے، جس میں اسے کم از کم 20 سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔
کرسٹینا الیگزینڈر، جنہیں اہل خانہ پیار سے ٹینا کہتے تھے، جون 2025 میں ڈوسٹ ہِل، ٹیم ورتھ میں اپنے گھر کے اندر قتل کی گئی تھیں۔
واقعے کے بعد ان کے شوہر رابرٹ الیگزینڈر نے خود ایمرجنسی سروسز کو 999 پر کال کی اور پولیس کے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی اہلیہ کو قتل کیا ہے۔ تاہم مقدمے کی سماعت کے دوران اس نے قتل سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے اپنے دفاع میں کارروائی کی اور وہ ذہنی طور پر ذمہ دار نہیں تھا۔ جیوری نے اس کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے متفقہ طور پر اسے قتل کا مجرم قرار دیا۔
اسٹافورڈ کراؤن کورٹ میں مقتولہ کے بھائی نیل مرفی کا بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ انہوں نے اپنی بہن کو اپنے بہن بھائیوں میں سب سے قیمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد خاندان کی زندگیاں کبھی پہلے جیسی نہیں رہیں گی۔
نیل مرفی کے مطابق ابتدا میں انہیں معلوم تھا کہ ان کی بہن کو شاید پانچ یا چھ مرتبہ چاقو مارا گیا ہوگا، لیکن طبی شواہد سے بعد میں سامنے آیا کہ کرسٹینا کو کم از کم 77 مرتبہ چاقو مارا گیا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ کرسٹینا کا گلا بھی دبایا گیا جبکہ رابرٹ الیگزینڈر نے کتے کے کھانے کے ایک ڈبے سے بھی ان کے سر پر حملہ کیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ان کے چہرے، گردن، جسم، بازوؤں اور ٹانگوں پر انتہائی سنگین اور تباہ کن نوعیت کے زخم آئے۔
اپنی بہن کو پہنچنے والے زخموں کی اصل شدت جاننے کے لمحے کو بیان کرتے ہوئے نیل مرفی نے کہا کہ وہ اس حقیقت سے اندر تک دہل گئے تھے اور یہ ایسی چیز ہے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔
نیل نے عدالت کو بتایا کہ کرسٹینا ان کے لیے دوسری ماں کی طرح تھیں اور انہوں نے بچپن میں اپنے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کی، کبھی شکایت نہیں کی اور ہمیشہ خاندان کے لیے موجود رہیں۔
انہوں نے کہا کہ خاندان کوشش کر رہا ہے کہ کرسٹینا سے جڑی خوشگوار یادوں کو یاد کرے، لیکن اس وقت درد اور غم اتنا شدید ہے کہ ان یادوں تک پہنچنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔
نیل مرفی کے مطابق کرسٹینا کی اپنے شوہر سے محبت بالآخر ان کی موت کی ایک وجہ بن گئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹینا دوسروں کی مدد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتی تھیں اور اپنے شوہر کی مشکل وقت میں مدد کرنا بھی اسی فطرت کا حصہ تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ قتل سے پہلے کے ہفتوں میں رابرٹ الیگزینڈر نے خود کو نقصان پہنچایا تھا، تاہم نفسیاتی ماہرین نے اسے اپنی اہلیہ کو قابو کرنے یا جذباتی طور پر متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا۔
کرسٹینا اپنی موت کے وقت اپنی شادی ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔ دوسری جانب رابرٹ الیگزینڈر نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ اسے واقعے کی یاد نہیں اور اس نے مبینہ طور پر کرسٹینا کی جانب سے پیٹ میں ضرب لگنے کے بعد یادداشت کھو دی تھی۔
کرسٹینا کی قریبی سہیلیوں کے گروپ، جسے “فیمس فائیو” کہا جاتا تھا، نے بھی عدالت میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ دوبارہ کبھی پانچ افراد کا گروپ نہیں بن سکیں گی، تاہم کرسٹینا ہمیشہ ان کے گروپ کا حصہ رہیں گی اور کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔
سہیلیوں نے کرسٹینا کو مہربان، خیال رکھنے والی اور فیاض شخصیت قرار دیا، جو دوسروں کو ہمیشہ خود پر ترجیح دیتی تھیں اور لوگوں کی مدد کے لیے اپنی زندگی وقف کیے ہوئے تھیں۔
نیل مرفی نے مقدمے کے دوران رابرٹ الیگزینڈر کے جھوٹ اور دھوکے پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ قاتل کی جانب سے کرسٹینا کی ساکھ اور یاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے اور ان کی بہن کی یاد خاندان کے ہر فرد میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
رابرٹ الیگزینڈر، جو ڈوسٹ ہِل کی ایسکاٹ ڈرائیو سے تعلق رکھتا تھا، کو اسٹافورڈ کراؤن کورٹ میں متفقہ طور پر قتل کا مجرم قرار دیا گیا اور یکم ستمبر 2026 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، جس کی کم از کم مدت 20 سال مقرر کی گئی ہے۔
