تکبیر نیوز (نیپال): نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی اور سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 950 سے تجاوز کر گئی ہے اور ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ نیپال میں امدادی ٹیمیں ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبوں کی کیچڑ سے بھری سرنگوں میں پھنسے سینکڑوں کارکنوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
نیپال کی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے مطابق سیلاب سے متاثرہ راسووا اور نواکوٹ اضلاع میں 12 ہائیڈرو پاور منصوبوں سے کم از کم 900 کارکنوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، جبکہ اندازہ ہے کہ ان میں سے تقریباً 500 افراد مختلف سرنگوں کے اندر پھنسے ہو سکتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر موہن کمار ڈانگی کے مطابق بعض کارکنوں نے سیلاب آنے کے وقت اپنے ساتھیوں سے رابطہ کرکے مدد طلب کی تھی، جبکہ کچھ افراد جو سرنگوں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے، انہوں نے بھی حکام اور اہل خانہ کو بتایا کہ متعدد کارکن اندر ہی موجود رہ گئے ہیں۔
نیپالی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجا رام باسنیٹ کے مطابق امدادی کارروائیاں پہاڑی علاقوں، آبادیوں اور دریائی علاقوں میں جاری ہیں، تاہم کیچڑ اور دشوار گزار علاقوں کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض سرنگوں میں پھنسے افراد کے لیے پناہ لینے اور آکسیجن دستیاب ہونے کی گنجائش ہو سکتی ہے، تاہم دوسری جانب وقت گزرنے کے ساتھ زندہ افراد کو تلاش کرنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
تباہ کن سیلاب کا آغاز گزشتہ بدھ کو ہمالیہ کے بلند علاقے میں گلیشیئر کے انہدام کے بعد ہوا۔ چٹانوں اور پگھلے ہوئے پانی نے دریاؤں میں اچانک پانی کی مقدار بڑھا دی، جس کے نتیجے میں نیپال اور چین کے تبت کے علاقوں میں پانی کا شدید ریلہ آیا اور عمارتیں، پل، سڑکیں اور مٹی کا وسیع ذخیرہ بہہ گیا۔
نیپال میں حکام نے مزید سیلاب کے خطرے کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ تبت کی سرحد کے ساتھ بہنے والے ایک دریا میں اتوار کے روز پانی کی سطح دوبارہ بلند ہونے کے بعد شہریوں کے موبائل فونز پر سیلاب سے متعلق انتباہات بھی جاری کیے گئے۔
حکام کے مطابق چین کی جانب سے نیپالی حکام کو بالائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے آگاہ کیا گیا تھا۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سیلاب کے بعد پہاڑوں میں بننے والی ایک نئی جھیل کا بیشتر پانی نکل چکا ہے، تاہم تقریباً 14 لاکھ مکعب میٹر پانی رکھنے والا ایک گڑھا اب بھی خطرہ بن سکتا ہے اور اس کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
ادھر نیپال کے شدید متاثرہ ضلع دھادنگ میں بعض شہری تباہ شدہ گھروں کی جانب واپس پہنچنا شروع ہو گئے ہیں تاکہ ملبے اور کیچڑ میں سے جو کچھ بچایا جا سکتا ہے اسے محفوظ کر سکیں۔
کئی علاقوں میں گھروں کی دیواریں اور چھتیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں جبکہ گاڑیاں، زرعی مشینری اور دیگر سامان موٹی مٹی میں دب گیا۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور بجلی کے کھمبے اور تاریں کیچڑ میں بکھری ہوئی ہیں۔
سیلاب سے بڑے کنکریٹ پلوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے معلق پل بھی تباہ ہو گئے ہیں، جس کے باعث دریا کے دونوں جانب رہنے والے لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ شدید متاثر ہوا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل سیلابی انتباہات اور بارش کے باعث انہیں بار بار محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا پڑ رہا ہے۔ بعض خاندانوں کو بزرگ افراد کو ساتھ لے کر بلند مقامات تک پہنچنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب نیپال اور چین کے درمیان متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بھی جاری ہے۔ نیپال میں ہزاروں افراد کو اب تک محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ چین کے تبت کے علاقے میں بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
نیپال کے وزیر خارجہ نے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیپال عالمی اخراج میں معمولی حصہ ڈالتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا غیر متناسب بوجھ برداشت کر رہا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس تباہی کو براہِ راست عالمی حدت سے جوڑنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ہمالیہ جیسے علاقوں میں ایسے قدرتی سانحات کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں اب بھی تباہ شدہ ہائیڈرو پاور منصوبوں، پہاڑی علاقوں اور دریاؤں کے اطراف لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ حکام نے شہریوں کو مزید سیلاب کے خدشے کے پیش نظر غیر ضروری طور پر متاثرہ علاقوں میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
