تکبیر نیوز (مسیسیپی): امریکی ریاست مسیسیپی میں 29 سالہ سیاہ فام خاتون اور چار بچوں کی ماں تاشیا فارچون کی درخت سے لٹکی لاش ملنے کے تقریباً ایک ماہ بعد پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے 51 سالہ جارکیس ریٹلف کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق تاشیا فارچون کی لاش 3 اگست کو مسیسیپی کے شہر جیکسن میں ایک متروکہ مکان کے عقب میں درخت سے لٹکی ہوئی حالت میں ملی تھی۔
جیکسن پولیس چیف راشال بریکنی نے جمعہ کو ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ریٹلف کا مقتولہ کے ساتھ کسی نوعیت کا تعلق یا رابطہ تھا، تاہم پولیس نے ابھی اس تعلق کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
حکام کے مطابق جمعرات کی شام تاشیا فارچون کی موت کو باضابطہ طور پر قتل قرار دیا گیا، جس کے بعد پولیس نے ریٹلف کے خلاف تلاشی اور گرفتاری کے وارنٹ حاصل کیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ریٹلف کو بعد میں سڑک پر پولیس اہلکاروں کا سامنا ہونے پر گرفتار کرلیا گیا اور اس پر قتل کا الزام عائد کیا گیا۔
پولیس چیف نے واضح کیا کہ یہ گرفتاری تحقیقات میں اہم پیش رفت ضرور ہے لیکن تحقیقات کا اختتام نہیں۔ ان کے مطابق تفتیش بدستور جاری ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں۔
تاشیا فارچون کے اہل خانہ ابتدا ہی سے ان کی موت کو خودکشی تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے۔
مقتولہ کی والدہ کرسٹی اسپائیوی نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کی اطلاع ملنے پر وہ رو پڑیں اور پولیس کا بار بار شکریہ ادا کیا۔ تاہم ان کے مطابق خاندان کو اب بھی قتل کی ممکنہ وجہ سمیت بہت سے سوالات کے جواب نہیں ملے۔
پولیس چیف کے مطابق تاشیا فارچون کی لاش جب ملی تو وہ لٹکی ہوئی حالت میں تھی اور گلنے سڑنے کے مختلف مراحل میں پہنچ چکی تھی۔
واقعے کی نوعیت اور مسیسیپی کی تاریخی نسلی حساسیت کے باعث کیس نے بڑے پیمانے پر سوالات اور تشویش کو جنم دیا ہے۔
پولیس چیف راشال بریکنی نے اس تشویش کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پولیس سمجھتی ہے کہ اس کیس کو وسیع اور عالمی تناظر میں دیکھا جارہا ہے اور حکام ان خدشات کو نظر انداز نہیں کررہے۔
تاہم انہوں نے زور دیا کہ پولیس عوام کے سامنے صرف وہی معلومات پیش کرے گی جن کی شواہد اور حقائق سے تصدیق ہوسکے۔
واضح رہے کہ جارکیس ریٹلف کو قتل کے الزام میں گرفتار اور چارج کیا گیا ہے، تاہم اس کے خلاف جرم ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوا اور تحقیقات بدستور جاری ہیں۔
