تکبیر نیوز (اوکلاہوما): امریکا کی ریاست اوکلاہوما میں ایک انتہائی افسوسناک واقعے میں 15 سالہ لڑکا گھر کے اندر گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا، جبکہ پولیس نے اس کی 11 سالہ بہن کو سیکنڈ ڈگری قتل کے شبہے میں گرفتار کرکے نابالغوں کے حراستی مرکز منتقل کردیا ہے۔
واقعہ بدھ کی سہ پہر ایڈمنڈ شہر میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق بچوں کی والدہ اس وقت گھر سے باہر تھیں جب ان کی 11 سالہ بیٹی نے انہیں فون کرکے بتایا کہ کسی نے اس کے بڑے بھائی کو گولی مار دی ہے۔
اطلاع ملنے پر پولیس تقریباً شام 4 بجے گھر پہنچی، جہاں 15 سالہ لڑکا گولی لگنے کے باعث مردہ حالت میں پایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعے کے وقت گھر میں مقتول نوجوان اور اس کی 11 سالہ بہن کے علاوہ کسی اور شخص کی موجودگی کا علم نہیں ہوا۔
تحقیقات کے دوران پولیس کی توجہ کم عمر بہن کی جانب مبذول ہوئی اور تقریباً نو گھنٹے بعد، جمعرات کو رات ایک بجے سے کچھ دیر قبل، اسے سیکنڈ ڈگری قتل کی شکایت پر گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ فائرنگ سے پہلے گھر کے اندر کیا ہوا تھا اور نہ ہی ممکنہ وجہ کے بارے میں کوئی تفصیل جاری کی گئی ہے۔
دونوں بچوں کی کم عمری کے باعث پولیس نے ان کے نام ظاہر نہیں کیے۔
11 سالہ بچی کو نابالغوں کے حراستی مرکز منتقل کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسے سیکنڈ ڈگری قتل کی شکایت پر حراست میں لیا گیا ہے، تاہم اوکلاہوما کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کی جانب سے ابھی باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
واقعے نے علاقے کے رہائشیوں کو بھی شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ پڑوسیوں کے مطابق وہ دونوں بہن بھائیوں کو محلے میں اکٹھے دیکھتے رہے تھے اور بظاہر ان کے درمیان قریبی تعلق نظر آتا تھا۔
پولیس نے واقعے کو خاندان کیلئے انتہائی دل دہلا دینے والا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔
اوکلاہوما کے وکیل ایڈ بلاؤ کے مطابق ریاستی قانون کے تحت 13 سال سے کم عمر بچے کو سنگین جرم کے الزام میں بالغ ملزم کی طرح مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اس لیے 11 سالہ بچی کا معاملہ جووینائل کورٹ کے نظام کے تحت آگے بڑھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش میں اس بات کا بھی جائزہ لیے جانے کا امکان ہے کہ کم عمر بچے کو آتشیں اسلحے تک رسائی کیسے حاصل ہوئی اور اس حوالے سے ذمہ دار بالغ افراد کی جانب سے کسی غفلت کا پہلو موجود تھا یا نہیں۔
واضح رہے کہ 11 سالہ بچی کو شبہے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے خلاف الزام ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوا۔ واقعے کے محرک اور فائرنگ کے مکمل حالات کا تعین بھی تفتیش کے بعد ہی ہوگا۔
