تکبیر نیوز (ایلکستن، ڈربی شائر): ایلکستن کی سڑک پر دن دہاڑے ایک شخص کو بڑے زومبی چاقو سے زخمی کرنے والے سابق فوجی کو عدالت نے 3 سال 9 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
حملے کی ہولناک سی سی ٹی وی فوٹیج ڈربی کراؤن کورٹ میں چلائی گئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 23 سالہ لیوک ہردووار نے اپنی کمر سے بڑا چاقو نکالا اور ایک شخص پر وار کر دیے۔
استغاثہ کے مطابق واقعہ رواں سال 26 جون کی دوپہر کو کوٹمین ہائے روڈ، ایلکستن میں پیش آیا۔ متاثرہ شخص بغیر شرٹ کے سڑک پر موجود تھا جبکہ قریب ہی عام شہری بھی موجود تھے۔
فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ہردووار اپنی آڈی گاڑی میں متاثرہ شخص کے قریب پہنچا، گاڑی سے باہر نکلا اور اس سے بحث شروع ہوگئی۔ اسی دوران متاثرہ شخص نے اسے چہرے پر مکا مارا، جس کے بعد ہردووار نے کمر کے پچھلے حصے سے زومبی چاقو نکالا اور اس شخص کی کمر کے نچلے حصے اور بازو پر وار کیے۔
حملے کے بعد متاثرہ شخص کے زخموں سے شدید خون بہتا دکھائی دیا اور وہ سڑک پر لڑکھڑاتا رہا۔ خون سڑک پر جمع ہونے کے بعد وہ زمین پر گر گیا، تاہم کچھ دیر بعد دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ہردووار موقع سے گاڑی میں فرار ہوگیا اور زخمی شخص کو وہاں موجود شہریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ بعد میں پولیس نے تعاقب کے دوران اسے پکڑ لیا۔ گرفتاری کے وقت بھی اس کے پاس تقریباً 30 سینٹی میٹر لمبا زومبی چاقو موجود تھا جس پر متاثرہ شخص کا خون لگا ہوا تھا۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ حملے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہردووار اسی گاڑی میں اپنی ساتھی، تقریباً دو سالہ بچے اور اس کی نو سالہ اولاد کے ساتھ موجود تھا۔
جج ریکارڈر سیموئل اسکنر نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ ہردووار نے دن کے وقت عوام کی موجودگی میں حملہ کیا، کم از کم دو مرتبہ چاقو سے وار کیا اور زخمی شخص کو سڑک پر خون بہتا چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا۔
جج کے مطابق اس واقعے کے اثرات ہردووار کے اپنے خاندان پر بھی پڑے، جنہیں گھر تبدیل کرنا پڑا، اور اس صورت حال کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔
ہردووار، جس کا کوئی مستقل پتہ نہیں، نے شدید جسمانی نقصان پہنچانے کی نیت سے زخمی کرنے اور بلیڈ رکھنے کے الزامات کا اعتراف کیا۔ اس کا کوئی متعلقہ سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔
دفاع کی وکیل ربیکا کولمین نے عدالت کو بتایا کہ یہ دونوں افراد کے درمیان اچانک پیش آنے والا واقعہ تھا اور خاندان کے افراد کے درمیان پہلے سے کشیدگی موجود تھی۔
دفاع کے مطابق ہردووار کا کہنا تھا کہ اسے متاثرہ شخص کی جانب سے پہلے دھمکیاں دی گئی تھیں اور واقعے کے روز اسے گردن پر چاقو مارنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ہردووار نے 19 سال کی عمر میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور دو سال تک خدمات انجام دیں۔ اس کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اس کی قید کا اثر اس کی تقریباً دو سالہ بیٹی اور ساتھی کے نو سالہ بیٹے پر پڑے گا۔
