تکبیر نیوز (ڈڈلی): برطانیہ کے علاقے ڈڈلی میں تقریباً 28 سال قبل لاپتہ ہونے والی سات بچوں کی ماں پیٹریشیا لیشلی کے قتل کا معمہ بالآخر حل ہوگیا، 66 سالہ ٹریور ڈنکلی نے اپنی ساتھی کو قتل کرنے اور اس کی لاش ٹھکانے لگانے کا اعتراف کرلیا ہے۔
ٹریور ڈنکلی جمعہ کو وولورہیمپٹن کراؤن کورٹ میں پیش ہوا، جہاں اس نے 1998 میں پیٹریشیا لیشلی کو قتل کرنے کا جرم قبول کیا۔
اس نے مقتولہ کی قانونی تدفین میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم کا بھی اعتراف کیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ پیٹریشیا ستمبر 1998 میں لاپتہ ہوئی تھیں۔ ان کی بہن نے جون 1999 میں ان کی گمشدگی کی باقاعدہ اطلاع دی تھی، لیکن ان کی لاش آج تک نہیں مل سکی۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق ڈنکلی نے قتل کے بعد پیٹریشیا کی لاش کو اپنے گھر کے تہہ خانے میں تقریباً ایک سال تک چھپائے رکھا اور بعد میں باقیات کو گھریلو کوڑے کے ڈبوں کے ذریعے ٹھکانے لگا دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باعث اب پیٹریشیا کی باقیات ملنے کا امکان انتہائی کم ہے۔
تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے بعد کیس میں اس وقت غیر معمولی پیش رفت ہوئی جب ڈنکلی نے پولیس کے سامنے اچانک اعتراف کرتے ہوئے کہا: “میں نے اسے قتل کیا، مجھے افسوس ہے۔”
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے مطابق ڈنکلی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ رات کی شفٹ سے واپس آیا تھا جب اس نے اپنی ساتھی پر مکوں سے حملہ کیا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ اس وقت اس پر شدید غصہ طاری ہوگیا تھا۔
پولیس کے مطابق پیٹریشیا کو مسلسل اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔
قتل کے بعد ڈنکلی پیٹریشیا کے بچے کو سوشل سروسز کے پاس لے گیا اور دعویٰ کیا کہ ماں بچے کو چھوڑ کر چلی گئی ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کی ڈیٹیکٹو انسپکٹر مشیل کورڈیل نے کیس کو انتہائی دل دہلا دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈنکلی کے اقدامات ناقابلِ بیان حد تک ظالمانہ تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے نہ صرف پیٹریشیا کی جان لی بلکہ ان کے خاندان کو اپنی عزیزہ کی آخری رسومات اور باعزت تدفین کا موقع بھی چھین لیا۔
پیٹریشیا لیشلی سات بچوں کی ماں تھیں اور ان کے اہل خانہ تقریباً تین دہائیوں تک ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے مکمل حقائق سے محروم رہے۔
عدالت نے ٹریور ڈنکلی کو سزا سنائے جانے تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اسے 6 نومبر کو وولورہیمپٹن کراؤن کورٹ میں سزا سنائی جائے گی۔
