تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ کی سیاسی جماعت ریفارم یوکے کو صرف دو روز میں مجموعی طور پر 72 ملین پاؤنڈ کے غیرمعمولی عطیات مل گئے ہیں، کرپٹو کرنسی سرمایہ کار کرسٹوفر ہاربورن نے 36 ملین پاؤنڈ دینے کا اعلان کرتے ہوئے بین ڈیلو کی جانب سے ایک روز قبل دیے گئے اتنی ہی رقم کے ریکارڈ عطیے کی برابری کردی۔
ہاربورن نے ٹیلی گراف میں لکھے گئے مضمون میں کہا کہ ان کے ’’مسابقتی جذبے‘‘ نے انہیں بین ڈیلو کے 36 ملین پاؤنڈ کے عطیے کے برابر رقم دینے پر آمادہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کسی برطانوی سیاسی جماعت کو دیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا انفرادی عطیہ ہے۔
تھائی لینڈ میں مقیم کاروباری شخصیت ہاربورن نے کہا کہ وہ اس عطیے کے بدلے ذاتی طور پر کچھ نہیں چاہتے، سوائے اس کے کہ ریفارم یوکے خود کو حکومت سنبھالنے کیلئے تیار جماعت بنائے۔
رپورٹ کے مطابق ہاربورن اور ڈیلو کی جانب سے مجموعی طور پر دیے گئے 72 ملین پاؤنڈ گزشتہ سال برطانیہ کی تمام سیاسی جماعتوں کو ملنے والے مجموعی عطیات سے بھی زیادہ ہیں۔
ریفارم یوکے کے سربراہ نائجل فراج نے دونوں عطیہ دہندگان کی سخاوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس مالی معاونت کے بعد ان کی جماعت اگلے عام انتخابات میں برابر کی سطح پر انتخابی مقابلہ کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔
ہاربورن اس سے قبل بھی ریفارم یوکے اور نائجل فراج کو لاکھوں پاؤنڈ دے چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فراج اس وقت پارلیمانی معیارات کے کمشنر کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں کہ آیا انہیں 2024 کے انتخابات سے قبل ہاربورن کی جانب سے ملنے والے 5 ملین پاؤنڈ کے نقد تحفے کو ظاہر کرنا چاہیے تھا۔ فراج کا مؤقف ہے کہ یہ خالصتاً نجی تحفہ تھا اور ان کی پارلیمانی یا سیاسی سرگرمیوں سے متعلق نہ ہونے کے باعث اسے رجسٹر کرنا ضروری نہیں تھا۔
دوسری جانب ریفارم یوکے کی مالی معاملات کے حوالے سے جانچ پڑتال بھی جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے چینل 4 نیوز کی ایک نشریات میں جماعت کے دو سینئر معاونین مبینہ طور پر انتخابی قانون سے بچتے ہوئے غیرملکی عطیات حاصل کرنے کے طریقے پر گفتگو کرتے دکھائی دیے۔ میٹروپولیٹن پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ ریفارم یوکے کسی بھی غلط کام کی تردید کرتی ہے۔
پولیس فیونا کوٹریل کی جانب سے جماعت کو دیے گئے عطیات کے ساتھ ساتھ ریفارم یوکے کے نائب سربراہ رچرڈ ٹائس کے زیرِ کنٹرول ایک کمپنی کی جانب سے دیے گئے عطیات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
ہاربورن کا کہنا تھا کہ وہ اپنی باقی زندگی کیلئے کافی دولت جمع کرچکے ہیں جبکہ ریفارم یوکے ایک نئی ابھرتی ہوئی جماعت ہے جسے پرانی سیاسی جماعتوں جیسی طویل عرصے سے قائم مالی سرپرستی حاصل نہیں۔ ان کے مطابق ایسی جماعت کو خود کو منظم کرنے اور حکومت کیلئے تیار ہونے کی خاطر صرف رکنیت فیس سے زیادہ مالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہاربورن اور ڈیلو کے عطیات 2001 میں سیاسی جماعتوں کیلئے عطیات ظاہر کرنے کے قواعد متعارف ہونے کے بعد کسی برطانوی سیاسی جماعت کو ملنے والی سب سے بڑی رقوم ہیں۔
برطانیہ میں اس وقت اہل برطانوی عطیہ دہندگان کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو دی جانے والی رقم پر عمومی حد مقرر نہیں، تاہم لیبر حکومت نے بیرونِ ملک مقیم برطانوی شہریوں کیلئے سیاسی عطیات کی حد ایک لاکھ پاؤنڈ مقرر کرنے کا اقدام متعارف کرایا ہے اور حال ہی میں برطانیہ واپس آنے والوں کیلئے بھی اسی نوعیت کی حد لانے کا منصوبہ ہے۔
