لیڈز: سڑک پر انتہائی تیز رفتاری سے گاڑیوں کی ریس لگانے والے دوسرے ڈرائیور کو بھی ایک ماں اور اس کی چار سالہ بیٹی کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے۔
واقعہ 16 جنوری 2023 کو صبح ساڑھے آٹھ بجے کے کچھ دیر بعد لیڈز کے اسکاٹ ہال روڈ پر پیش آیا، جہاں 27 سالہ جسٹینا ہلبوج اپنی چار سالہ بیٹی لینا کے ساتھ اسکول جا رہی تھیں۔
ایک سفید آڈی گاڑی نے دونوں کو ٹکر مار دی، جس کے بعد گاڑی ورٹو جیگوار لیڈز کار ڈیلرشپ کی دیوار سے جا ٹکرائی۔ ماں اور بیٹی دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
آڈی چلانے والے 29 سالہ ہردیپ بھاچو کو حادثے کے بعد اسپتال سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے جون 2024 میں خطرناک ڈرائیونگ کے ذریعے دونوں کی موت کا سبب بننے کا جرم تسلیم کر لیا تھا۔
تحقیقات کے دوران عوام کی فراہم کردہ ڈیش کیم اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ بھاچو کی اپنی گاڑی میں موجود کیمرے کی ریکارڈنگ سے معلوم ہوا کہ حادثے سے کچھ دیر پہلے وہ ایک کالی بی ایم ڈبلیو کے ساتھ ریس لگا رہا تھا۔
بی ایم ڈبلیو چلانے والا 37 سالہ جسکمل ریات حادثے کے بعد موقع سے فرار ہوگیا تھا، تاہم اسے اسی روز گرفتار کر لیا گیا۔
ریات نے اپنے خلاف الزام کی تردید کی، لیکن لیڈز کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے بعد جمعہ کو اسے خطرناک ڈرائیونگ کے ذریعے دو افراد کی موت کا سبب بننے کے دونوں الزامات میں مجرم قرار دے دیا گیا۔
عدالت میں بھاچو کی گاڑی کے ڈیش کیم کی ویڈیو بھی پیش کی گئی، جس میں دونوں افراد کو ٹریفک سگنل پر رکنے کے دوران ایک دوسرے سے گفتگو کرتے سنا گیا۔
ویڈیو میں بھاچو اپنی آڈی کی طاقت پر فخر کرتے ہوئے کہتا سنائی دیا کہ گاڑی میں 560 ہارس پاور ہے اور اس نے ابھی صرف ایک چوتھائی طاقت استعمال کی ہے۔
ویسٹ یارکشائر پولیس کے تفتیشی افسر پال کونروئے نے دونوں ڈرائیوروں کو خود غرض اور انتہائی لاپرواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک بے قصور ماں اور اس کی بیٹی صرف اسکول جا رہی تھیں لیکن دونوں کبھی وہاں نہ پہنچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ڈرائیور ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں تھے بلکہ مصروف دو رویہ سڑک پر اپنی تیز رفتار گاڑیوں کی نمائش کر رہے تھے۔
پولیس افسر کے مطابق حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ تجربہ کار حادثاتی تفتیش کار بھی متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور گاڑی کو اتنی رفتار سے چلانے والے ڈرائیور نے سمجھا کہ وہ اسے قابو میں رکھ سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور گاڑی بے قابو ہونے کے نتیجے میں دو جانیں چلی گئیں۔
جسٹینا کے منگیتر اور لینا کے والد نے اپنے بیان میں کہا کہ حادثے سے پہلے ان کی زندگی ان کے خوابوں کے مطابق مکمل تھی۔ ان کے پاس ایک اچھی ملازمت، ایک محبت کرنے والی منگیتر اور ایک پیاری بیٹی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ 16 جنوری 2023 کی صبح جب انہوں نے اپنے اہل خانہ کو الوداع کہتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں آپ سے محبت کرتا ہوں‘‘ تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ آخری مرتبہ انہیں دیکھ رہے ہیں۔
ان کے مطابق جب انہیں دونوں کی موت کی اطلاع ملی تو ان کی پوری دنیا ایک لمحے میں بکھر گئی۔ وہ آج بھی اپنی منگیتر اور بیٹی کی جدائی کا خلا محسوس کرتے ہیں اور ان تمام خوابوں اور منصوبوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو ان کی موت کے ساتھ ہی ختم ہوگئے۔
ہردیپ بھاچو اور جسکمل ریات کو سزا بعد کی تاریخ میں سنائی جائے گی۔
