مانچسٹر: ڈرائیونگ پر پابندی کے باوجود گاڑی چلانے والے 22 سالہ نوجوان نے پولیس سے فرار ہونے کی کوشش میں ایم 56 موٹروے پر 128 میل فی گھنٹہ تک رفتار پہنچا دی، جس کے بعد مانچسٹر ایئرپورٹ پر گاڑی حفاظتی رکاوٹ سے جا ٹکرائی۔
امین اخوندی اس وقت بھی ڈرائیونگ سے نااہل تھا، جبکہ اس نے وائیتھنشا کے شہری علاقوں میں جہاں رفتار کی حد 30 میل فی گھنٹہ تھی، گاڑی 98 میل فی گھنٹہ تک چلائی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ 5 مئی کو پولیس اہلکاروں نے وائیتھنشا کے فاربینک روڈ پر سفید رنگ کی ووکس ویگن گالف دیکھی، جس کے بعد پولیس نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، تاہم ڈرائیور نے رکنے کے بجائے رفتار بڑھا دی۔
پراسیکیوشن کے مطابق گاڑی نے سرخ بتیوں کی خلاف ورزی کی، رکاوٹوں کے غلط جانب سے گزری اور ہولی ہیج روڈ پر فٹ پاتھ پر بھی چڑھ گئی۔
امین اخوندی بعد ازاں ایم 56 موٹروے پر پہنچا جہاں پولیس نے اس کی رفتار 128 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ ٹریفک کے درمیان خطرناک انداز میں گاڑی چلاتا رہا۔
وہ مانچسٹر ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہوا اور سڑک کے غلط جانب گاڑی چلانے کے بعد ٹرمینل ٹو کے قریب اسٹیل کی حفاظتی رکاوٹ سے جا ٹکرایا۔
حادثے کے نتیجے میں گاڑی کو تقریباً 10 ہزار پاؤنڈ کا نقصان پہنچا، جبکہ امین اخوندی کو ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹیں آئیں اور اسے 10 روز تک اسپتال میں زیر علاج رہنا پڑا۔
عدالت میں اسے جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔ چوٹ کی وجہ سے وہ سماعت کے دوران بیٹھنے کے بجائے کھڑا رہا اور کمر کا مخصوص بیلٹ بھی پہن رکھا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ امین اخوندی کے ہاتھ کی حرکت بھی متاثر ہوئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں تفتیش کے دوران اس نے پہلے کہا کہ اسے واقعے کی کچھ یاد نہیں، جبکہ بعد میں سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا۔
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ امین اخوندی کے خلاف پہلے ہی 7 سزائیں اور 15 جرائم کا ریکارڈ موجود ہے، جن میں خطرناک ڈرائیونگ کی سابقہ سزا بھی شامل ہے۔
اسے گرفتار کیے جانے کے بعد سابقہ جرم کی سزا مکمل کرنے کیلئے دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تھا اور اس کی موجودہ رہائی کی تاریخ 23 نومبر 2029 ہے۔
دفاع کی جانب سے پیٹر میلون نے عدالت کو بتایا کہ امین اخوندی اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس رات اس نے ایسا کیوں کیا، تاہم وہ اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔
16 مئی کو مانچسٹر اور سیلفورڈ مجسٹریٹس عدالت میں امین اخوندی نے خطرناک ڈرائیونگ، ڈرائیونگ سے نااہلی کے باوجود گاڑی چلانے اور بغیر انشورنس گاڑی چلانے کے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔
بعد ازاں مانچسٹر کراؤن کورٹ نے اسے 16 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
جج ریکارڈر جیریمی لاسکر نے کہا کہ یہ کسی دوسرے شخص کے زخمی نہ ہونے کے اعتبار سے خوش قسمتی تھی اور اس واقعے کو خطرناک ڈرائیونگ کی انتہائی سنگین مثال قرار دیا۔
جج نے امین اخوندی سے کہا کہ اس کی عمر صرف 22 سال ہے لیکن اس کا مجرمانہ ریکارڈ انتہائی تشویش ناک ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ نئی سزا اس کی موجودہ سزا کے ساتھ ہی چلائی جائے گی۔
اس کے ڈرائیونگ لائسنس پر سزا درج کر دی گئی ہے اور اسے پانچ سال کیلئے ڈرائیونگ سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسے دوبارہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کیلئے توسیعی ڈرائیونگ ٹیسٹ بھی دینا ہوگا۔
