تکبیر نیوز — نیپال: نیپال اور تبت کی سرحدی پہاڑی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہے، جبکہ دونوں ممالک میں 1500 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
نیپالی پولیس کے مطابق جمعہ کی صبح سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہوگئی، جبکہ ایک روز قبل ہلاکتوں کی تعداد 390 بتائی گئی تھی۔
لاپتا افراد میں 33 برطانوی شہری بھی شامل ہیں، جن میں 13 سالہ لڑکی اور 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہیں۔
نیپال کی قومی ادارہ برائے قدرتی آفات کے مطابق 517 غیر ملکی شہریوں سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ لاپتا غیر ملکیوں میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاح، کوہ پیما اور زائرین بھی شامل ہیں۔
ایسیکس میں ایک ہسپتال سے وابستہ ایک نرس نے بتایا کہ اس کے رشتہ دار بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی انتہائی تیزی سے آیا اور لوگوں کو بچانے کا موقع نہیں مل سکا۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ برطانوی شہریوں کی مدد کے لیے برطانوی حکومت کا ہنگامی مرکز دن رات کام کر رہا ہے۔
برطانوی حکومت نے نیپال میں امدادی کارروائیوں کے لیے ابتدائی طور پر 50 لاکھ پاؤنڈ امداد کی پیشکش بھی کی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر تلاش اور امدادی ٹیمیں بھی بھیجنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
دوسری جانب نیپال اور چین کے حکام نے مزید سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ حکام کے مطابق تباہی کے بعد پہاڑی علاقے میں بننے والی ایک جھیل میں پانی مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کے کناروں سے پانی باہر نکل رہا ہے۔
چینی وزارتِ آبی وسائل کے مطابق جھیل میں تقریباً 20 لاکھ مکعب میٹر پانی موجود ہے، جبکہ آئندہ تین دن کے دوران مزید 30 لاکھ مکعب میٹر پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے۔
نیپالی فوج نے ممکنہ مزید سیلاب کے خطرے کے پیش نظر دریائے بھوٹے کوشی کا جائزہ لینے کے لیے سرحدی علاقے میں ٹیم بھیج دی ہے۔
امدادی کارروائیاں جاری
نیپال کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق اب تک 3 ہزار 253 افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔
نیپالی فوج کی ایک ٹیم کو چین کی سرحد کے قریب واقع اپر تریشولی-1 پن بجلی منصوبے کے قریب بھی بھیجا گیا ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق کچھ افراد سرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔
امدادی حکام کے مطابق سرنگ کے داخلی اور خارجی راستے کیچڑ اور ملبے سے ڈھک جانے کے باعث امدادی کارروائی مشکل ہوگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سیلاب سے قبل ہمالیائی علاقے میں ایک گلیشیئر کے نیچے موجود چٹانی حصہ کھسک گیا، جس کے نتیجے میں گلیشیئر کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا۔ پگھلا ہوا پانی اور چٹانیں دریاؤں میں شامل ہونے سے پانی کی سطح اچانک بلند ہوئی اور شدید سیلابی ریلہ وادیوں کی جانب بڑھ گیا۔
سیلابی ریلے نے متعدد عمارتوں، پلوں اور گاڑیوں کو بہا دیا، جبکہ متاثرہ علاقوں میں سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ مٹی اور ملبے تلے دب گیا ہے۔
