تکبیر نیوز — مڈلزبرو: مڈلزبرو اور گردونواح میں حالیہ دنوں کے دوران پیش آنے والے متعدد سنگین واقعات کے بعد 200 سے زائد اضافی پولیس اہلکار کلیولینڈ پولیس کی مدد کے لیے تعینات کردیئے گئے ہیں۔
ریڈکار اینڈ کلیولینڈ کونسل کے سربراہ ایلک براؤن کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے اضافی پولیس اہلکار مڈلزبرو پہنچ رہے ہیں، جن میں تفتیش کاروں کے ساتھ مسلح پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اضافی نفری کا مقصد علاقے میں رہنے والے بے گناہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا اور حالیہ سنگین واقعات کی تحقیقات میں پولیس کی مدد کرنا ہے۔
یہ اضافی نفری ایسے وقت میں تعینات کی گئی ہے جب مڈلزبرو کے قریب چند روز کے دوران متعدد سنگین واقعات پیش آئے ہیں، جن میں اے 66 پر خوفناک ٹریفک حادثہ، گرین گیٹاؤن میں مکان میں آتشزدگی اور ایسٹن میں چاقو حملہ شامل ہیں۔
اے 66 پر ہفتے کے روز پیش آنے والے حادثے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں میں 37 سالہ پی سی میتھیو بلیڈز اور 38 سالہ پی سی ٹام کلاف شامل تھے۔
حادثے میں 17 سالہ کول ورتھی، 17 سالہ تھیو رے، 18 سالہ مکائی سیڈنگٹن اور 23 سالہ مائیکل رابرٹ کاہل اور جاکوب ماتوسیئک بھی ہلاک ہوئے۔
پولیس نے اے 66 حادثے کے سلسلے میں 17 افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے دو کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے جبکہ دیگر کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے منظم جرائم کے ممکنہ تعلق کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔
گرین گیٹاؤن آتشزدگی
مڈلزبرو کے قریب گرین گیٹاؤن میں بدھ کے روز ایک مکان میں آتشزدگی کے واقعے میں 34 سالہ نٹالی میک ڈونلڈ اور ان کی 7 سالہ بھانجی ویلنٹینا فوسٹر ہلاک ہوگئیں، جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔
اس واقعے کے سلسلے میں دو افراد کو قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
متاثرہ خاتون کے بھائی جوش کرٹن نے کہا کہ ان کی بہن کا کسی گینگ یا اے 66 حادثے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور ان کے مطابق یہی بات اس واقعے کو مزید بے معنی بناتی ہے۔
واقعے کے بعد گھر کے باہر پھول، کھلونے اور دونوں متاثرین کی تصویر رکھ کر انہیں خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔
مزید واقعات سے شہریوں میں تشویش
جمعرات کو ایسٹن کے علاقے میں بھی ایک شخص پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا گیا۔ کلیولینڈ پولیس کے مطابق 39 سالہ شخص کو حملے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اس معاملے میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
علاقے کے ایک رہائشی نے بتایا کہ واقعے کے بعد گلی میں بڑی تعداد میں مسلح پولیس اہلکار موجود تھے اور پولیس کا ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں موجود رہا۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ ان حالیہ واقعات کے درمیان منظم جرائم کا تعلق ابھی تک ثابت نہیں ہوا اور مختلف واقعات کی تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہیں۔
برطانوی حکومت کے محکمہ داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پولیسنگ کے وزیر کلیولینڈ پولیس اور مقامی نمائندوں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ اس مشکل وقت میں پولیس کو درکار تمام معاونت فراہم کی جاسکے۔
