لندن: مانچسٹر کے پارک لائف فیسٹیول میں ہونے والی 19 پُرتشدد ڈکیتیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں لندن کے مختلف علاقوں میں پولیس کے چھاپوں کے دوران 7 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
گریٹر مانچسٹر پولیس کے مطابق رواں سال جولائی میں ہیٹن پارک میں ہونے والے فیسٹیول کے دوران متعدد افراد نے شکایات درج کرائیں کہ انہیں ہجوم میں گھیر کر موبائل فون، زیورات اور دیگر قیمتی سامان حوالے کرنے پر مجبور کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بعض واقعات میں جب متاثرین نے مزاحمت کی یا ان کے دوستوں نے مداخلت کی تو مبینہ ملزمان نے تشدد کیا اور سامان چھین کر فرار ہوگئے۔
تفتیش کاروں کے مطابق مبینہ گروہ فیسٹیول کے ہجوم میں گھومتے اور چوری شدہ سامان ایک دوسرے کو منتقل کرتے رہتے تھے، جس کی وجہ سے پولیس کیلئے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو رہا تھا۔
تاہم سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی مدد سے ایک مشتبہ شخص کی شناخت ہوئی۔ ڈکیتی کے شبہ میں اس کی گرفتاری کے بعد پولیس نے اس کا موبائل فون قبضے میں لے کر اس کا جائزہ لیا تو مبینہ طور پر ایسے شواہد ملے جن سے ایک بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک کی موجودگی کا پتا چلا۔
مزید شواہد اور معلومات حاصل ہونے کے بعد گریٹر مانچسٹر پولیس اور میٹروپولیٹن پولیس نے مشترکہ کارروائی کی۔
بدھ 26 اگست کی صبح لندن کے 12 مختلف پتوں پر چھاپے مارے گئے، جہاں سے 7 افراد کو ڈکیتی اور دیگر متعلقہ جرائم کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے بعض افراد کا لندن میں ہونے والی دیگر تقریبات کے دوران مبینہ طور پر اسی نوعیت کی وارداتوں سے تعلق بھی ہو سکتا ہے، جن میں گزشتہ سال کی نوٹنگ ہل کارنیول بھی شامل ہے۔
تمام گرفتار افراد کو مزید تحقیقات تک ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
گریٹر مانچسٹر پولیس کی تفتیشی افسر نتاشا فیئرک نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ تحقیقات تھی جس میں گریٹر مانچسٹر پولیس اور میٹروپولیٹن پولیس کے درمیان قریبی تعاون کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ وسائل، معلومات اور مہارت کی مدد سے ان افراد تک پہنچنے میں کامیابی ملی جن پر منظم انداز میں پُرتشدد ڈکیتیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
پولیس افسر کے مطابق تحقیقات سے ایسے وسیع تر جرائم پیشہ نیٹ ورک کے شواہد سامنے آئے ہیں جو فیسٹیول میں تفریح کیلئے آنے والے افراد کو نشانہ بنا رہا تھا۔
میٹروپولیٹن پولیس کی کمانڈر کلیئر اسمارٹ نے کہا کہ یہ گرفتاریاں نوٹنگ ہل کارنیول سے چند روز قبل عمل میں آئی ہیں، جہاں تقریباً 10 لاکھ افراد کے مغربی لندن پہنچنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ کارنیول میں شرکت کرنے والے افراد زیادہ محفوظ ماحول میں تقریب سے لطف اندوز ہو سکیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔
