تکبیر نیوز (برمنگھم):
برمنگھم میں سڑکوں اور کھمبوں پر جھنڈے لگانے کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کرگیا ہے، جہاں نفرت اور نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والے مقامی گروپ نے شہر میں غیر مجاز جھنڈے لگانے سے روکنے کیلئے برمنگھم سٹی کونسل کی جانب سے عدالت سے رجوع کرنے کے اقدام کی حمایت کردی ہے۔
برومیز یونائیٹڈ اگینسٹ ریززم اینڈ ہیٹ کرائم کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مقامی شہریوں اور کمیونٹی گروپس کی جانب سے دھمکیوں اور مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کے شواہد بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
کونسل کی جانب سے عدالت سے رجوع
برمنگھم سٹی کونسل نے شہر میں اسٹریٹ لائٹس کے کھمبوں پر غیر مجاز اشیا، جن میں جھنڈے بھی شامل ہیں، لگانے سے روکنے کیلئے عدالت سے حکم امتناع جاری کرنے کی درخواست دی ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران برمنگھم کے مختلف علاقوں اور اہم شاہراہوں پر بڑی تعداد میں برطانوی یونین جیک اور سینٹ جارج کراس کے جھنڈے لگائے گئے ہیں۔
نفرت مخالف گروپ کے مطابق کئی ماہ سے کمیونٹی تنظیمیں کونسل حکام، ویسٹ مڈلینڈز پولیس اور پولیس اینڈ کرائم کمشنر سے اس معاملے پر کارروائی کا مطالبہ کررہی تھیں۔
گروپ کا کہنا ہے کہ بعض افراد کی جانب سے مبینہ دھمکیوں اور خوف زدہ کرنے کے واقعات کے شواہد بھی حکام کو فراہم کیے گئے۔
جھنڈے لگانے والوں پر ہراساں کرنے کے الزامات
گروپ نے دعویٰ کیا کہ جھنڈے لگانے کی مخالفت کرنے والے بعض رہائشیوں کو زبانی بدسلوکی، دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
گروپ کے مطابق ہزاروں افراد نے شہر میں ایسے جھنڈے ہٹانے کے مطالبے کی حمایت میں ایک درخواست پر دستخط کیے، جبکہ مقامی انتخابات میں حصہ لینے والے 120 سے زیادہ امیدواروں نے بھی نفرت اور تقسیم کے خلاف اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
کونسل کی کابینہ کی رکن برائے مساوات، کمیونٹیز اور سماجی انصاف جین بیسٹن کی جانب سے کمیونٹی کی فراہم کردہ معلومات اور شواہد جمع کرنے کی کوششوں کو بھی گروپ نے سراہا ہے۔
کونسل کا مؤقف
برمنگھم سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ عدالت سے رجوع کرنے کا اقدام کسی خاص کمیونٹی، عقیدے یا نظریے کے خلاف نہیں ہے۔
تاہم عدالت میں دائر درخواست میں رائز دی کلرز نامی گروپ سے وابستہ متعدد افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں، جن پر جھنڈے لگانے کی سرگرمیوں کی ذمہ داری یا حمایت کا الزام ہے۔
ان میں سے بعض افراد کو دیگر واقعات سے متعلق فوجداری مقدمات کا بھی سامنا ہے، تاہم ان معاملات میں الزامات ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔
رائز دی کلرز کا مؤقف بھی سامنے آگیا
دوسری جانب رائز دی کلرز نے کہا ہے کہ اسے ابھی عدالت میں جمع کرائے گئے مکمل کاغذات موصول نہیں ہوئے، اس لیے وہ درخواست میں شامل الزامات کی تفصیل پر فی الحال تبصرہ نہیں کرسکتا۔
گروپ نے کسی بھی قسم کی تقسیم پیدا کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد قومی فخر کا اظہار اور مختلف کمیونٹیز کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔
گروپ کے مطابق بہت سے لوگ برطانوی جھنڈوں کو خوشی، شناخت اور اتحاد کی مثبت علامت سمجھتے ہیں۔
ریفارم یوکے کی کونسل پر تنقید
برمنگھم سٹی کونسل میں ریفارم یوکے کے 22 ارکان نے بھی عدالت سے رجوع کرنے کے اقدام کی مخالفت کی ہے۔
گروپ لیڈر جیکس پارکن نے اسے غیر معمولی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونین جیک اور سینٹ جارج کراس ملک کے ہر شہری کے جھنڈے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر قومی جھنڈا لہرانا ہی تقسیم پیدا کرنے والا عمل قرار دیا جانے لگے تو یہ ایک زیادہ گہرے مسئلے کی نشاندہی ہوگی۔
ریفارم یوکے کے کونسلر ایلن فینی نے بھی کونسل کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہر میں کچرے کی طویل ہڑتال، سڑکوں کے گڑھے اور پارکوں میں غیر قانونی داخلے جیسے مسائل موجود ہیں، اس لیے کونسل کو ان معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔
