برمنگھم کے چِن بروک ریکریشن گراؤنڈ، یارڈلے ووڈ میں غیر مجاز مسافر کیمپ قائم ہونے کی روک تھام کے لیے کونسل نے پارک کے سامنے والے حصے میں خندقیں کھود کر مٹی کا اونچا بند بنا دیا ہے۔
کونسل کے مطابق یہ عارضی اقدامات خاص طور پر بینک ہالیڈے ویک اینڈ سے قبل پارک میں بڑے کارواں اور دیگر گاڑیوں کے داخلے کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
مقامی کونسلرز کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے کارواں کے قافلے بار بار پارک میں داخل ہوکر غیر مجاز کیمپ قائم کرتے رہے ہیں، جس کے بعد انہیں ہٹانے اور پیچھے چھوڑا جانے والا کچرا صاف کرنے پر کونسل کو ہزاروں پاؤنڈ خرچ کرنا پڑتے ہیں۔
کونسلرز نے مستقل رکاوٹوں کا مطالبہ کردیا
بِلیزلی گرینز کی نمائندگی کرنے والے کونسلرز جو پیکاک اور کرس گارگن نے عارضی اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارک میں مستقل حفاظتی رکاوٹیں لگانے کے لیے بھی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق رواں موسم گرما میں پارک میں متعدد مرتبہ غیر مجاز کیمپ قائم ہوئے۔
کونسلرز کا کہنا ہے کہ بعض مقامی رہائشیوں نے انہیں بتایا کہ کیمپ لگنے کے دوران وہ خود کو خوف زدہ یا غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور پارک استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقامی رضاکار گروپس کو کیمپوں کے بعد چھوڑا جانے والا کچرا صاف کرتے کرتے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خندقوں کا مقصد کیا ہے؟
کونسل کی جانب سے کھودی گئی خندقوں اور بنائے گئے مٹی کے بند کا مقصد بڑے کارواں اور گاڑیوں کو پارک کے اندر داخل ہونے سے مشکل میں ڈالنا ہے۔
تاہم ان راستوں کو اس انداز میں رکھا گیا ہے کہ کونسل کی گھاس کاٹنے والی مشینیں اور دیگر ضروری سامان پارک تک پہنچ سکیں۔
کونسلرز کے مطابق مزید سخت انتظامات کے لیے کنکریٹ بلاکس اور بولارڈز بھی منگوائے جاچکے ہیں، جو داخلی راستوں پر نصب کیے جائیں گے۔
18 اگست کو دوبارہ کارواں داخل ہوئے
چِن بروک ریکریشن گراؤنڈ میں تازہ ترین واقعہ 18 اگست کو پیش آیا، جب تقریباً نصف درجن کارواں ایک ہارس باکس اور گھوڑوں کے ساتھ پارک میں داخل ہوگئے۔
مقامی رہائشی اور پارک میں کچرا اٹھانے والے 59 سالہ جان پیڈلی نے امید ظاہر کی کہ نئی خندقیں اور رکاوٹیں مزید کارواں کو پارک میں داخل ہونے سے روک سکیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر مجاز کیمپوں کے نتیجے میں بہت زیادہ کچرا پھیلتا ہے اور جنگلی حیات اور مقامی کمیونٹی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
کونسل نے اس معاملے پر مزید مؤقف دینے کے لیے رابطہ کیے جانے کے باوجود فی الحال کوئی تفصیلی تبصرہ نہیں کیا۔
