تکبیر نیوز (برطانیہ):
برطانوی حکومت نے غیر قانونی ملازمتوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یکم اکتوبر 2026 سے ایسے مالکان اور کاروباری اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی جو غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد کو ملازمت فراہم کریں گے۔ نئے قوانین کے تحت خلاف ورزی کرنے والے مالکان کو ہر غیر قانونی ملازم پر 60 ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ یا پانچ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام برطانیہ میں غیر قانونی ملازمتوں کے خاتمے، امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور قانون کے مطابق کام کرنے والے کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت ڈیلیوری رائیڈرز، کورئیر سروسز، آن لائن پلیٹ فارمز، رائیڈ شیئرنگ کمپنیوں اور دیگر گیگ اکانومی سے وابستہ تمام کاروباروں سمیت ہر شعبے کے مالکان پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ کسی بھی شخص کو ملازمت دینے سے پہلے اس کے Right to Work یعنی برطانیہ میں قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت کی مکمل تصدیق کریں۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کمپنی یا مالک جان بوجھ کر یا غفلت کے باعث ایسے شخص کو ملازمت دیتا ہے جس کے پاس برطانیہ میں کام کرنے کی قانونی اجازت موجود نہیں، تو اسے فی غیر قانونی ملازم 60 ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ، پانچ سال تک قید یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت کے مطابق نئے قوانین کا مقصد ایماندار کارکنوں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا، غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کرنا اور ان کاروباروں کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو غیر قانونی افراد کو ملازمت دے کر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
حکام نے تمام کمپنی مالکان اور کاروباری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ یکم اکتوبر سے پہلے اپنے ملازمین کے قانونی دستاویزات اور ورک اسٹیٹس کی جانچ کا نظام مزید مضبوط بنائیں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
