ایکسٹر: برطانیہ کے شہر ایکسٹر میں معروف بے گھر شہری اسٹیفن "کوکی” کک کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والا برائن جیول جیل میں ہلاک ہو گیا۔
22 سالہ برائن جیول کی موت 23 جولائی کو HMP Garth جیل، لنکاشائر میں ہوئی۔ پرزن اینڈ پروبیشن اومبڈزمین (PPO) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ موت کے حالات کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
برائن جیول کو 2023 میں ایکسٹر کراؤن کورٹ نے اسٹیفن کک کے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے کم از کم 20 سال قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت میں بتایا گیا تھا کہ 28 جنوری 2023 کو ایکسٹر کی سڈویل اسٹریٹ پر واقع بیٹ فریڈ بیٹنگ شاپ کے باہر جھگڑے کے دوران برائن جیول نے 45 سالہ اسٹیفن کک کے سینے میں چاقو کا وار کیا، جس سے ان کا دل زخمی ہوا اور زیادہ خون بہنے کے باعث وہ دم توڑ گئے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق جھگڑے کے دوران اسٹیفن کک کے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی شیشے کی بوتل تھی، جبکہ برائن جیول نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنے دفاع میں چاقو استعمال کیا۔ تاہم جیوری نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے اسے قتل کا مجرم قرار دیا۔
عدالت میں مقتول کی بیٹی ڈینی کک نے جذباتی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے والد نہایت مہربان انسان تھے اور ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔
برائن جیول کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس کا بچپن انتہائی مشکلات میں گزرا اور وہ زیادہ تر وقت سرکاری نگہداشت میں رہا، تاہم عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد سزا برقرار رکھی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق برائن جیول اس سے قبل 2021 میں اپنے والد پر چاقو سے حملہ کرنے کے جرم کا بھی اعتراف کر چکا تھا، جبکہ قتل کے مقدمے کے دوران ریمانڈ پر رہتے ہوئے اس نے ایک جیل افسر پر بھی حملہ کیا تھا۔
اب پرزن اینڈ پروبیشن اومبڈزمین جیل میں اس کی موت کی وجوہات اور حالات کی تحقیقات کر رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ واقعہ کیسے پیش آیا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
