میڈوے: برطانیہ کے میڈوے میری ٹائم اسپتال میں پارکنگ فیس میں 60 فیصد اضافے کے بعد متعدد ملازمین نے ملازمت چھوڑنے یا متبادل روزگار اختیار کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
یکم اگست سے اسپتال کی پارکنگ فیس 9.20 پاؤنڈ سے بڑھا کر 15 پاؤنڈ یومیہ کر دی گئی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اضافی آمدنی پارکنگ ایریاز کی مرمت، روشنی، سی سی ٹی وی، سیکیورٹی اور مشینوں کی بہتری پر خرچ کی جائے گی۔
تاہم ایک دایہ (Midwife)، جس نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بتایا کہ پہلے اسے ماہانہ تقریباً 150 پاؤنڈ پارکنگ پر خرچ کرنا پڑتے تھے، جبکہ اب یہ لاگت بڑھ کر 250 پاؤنڈ ماہانہ تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے ملازمین، خصوصاً اکیلی مائیں اور دور دراز سے آنے والے کارکن، پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہیں اور اضافی اخراجات ان کے لیے ملازمت جاری رکھنا مشکل بنا رہے ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں بینک شفٹ اور اوور ٹائم کی اجرت میں بھی تقریباً 20 فیصد کمی کی گئی، جس کے باعث کئی ملازمین اضافی آمدنی کے لیے پب اور دیگر مقامات پر جز وقتی کام کرنے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض نرسیں اور دائیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے باوجود بار میں کام کر کے زیادہ آمدنی حاصل ہو رہی ہے، جس سے عملے میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔
اسپتال کے مطابق اہل ملازمین کے لیے خصوصی پارکنگ پرمٹ اور مفت آف سائٹ پارکنگ کے ساتھ شٹل بس کی سہولت موجود ہے، تاہم ملازمین کا کہنا ہے کہ شٹل سروس کے اوقات ہر شفٹ کے مطابق موزوں نہیں۔
میڈوے این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی عبوری چیف ایگزیکٹو سیوبھان کالانن نے کہا کہ پارکنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کار پارک کے اخراجات پورے کرنے اور اضافی رقم مریضوں کی دیکھ بھال پر خرچ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
دوسری جانب میڈوے کونسل کی ڈپٹی لیڈر کونسلر ٹریسا مرے نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپتال انتظامیہ سے ملاقات کر کے اس اضافے کی وجوہات جانیں گی۔
ادھر یونین یونیسن (UNISON) نے بھی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال ملازمین سے کام پر آنے کے لیے اتنی زیادہ پارکنگ فیس وصول کرنا غیر منصفانہ ہے اور اس سے تجربہ کار عملہ این ایچ ایس چھوڑنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
