پیٹربورو: برطانیہ کے شہر پیٹربورو میں ایک شخص پر پب سے نکلنے کے بعد ہونے والے وحشیانہ حملے کے مقدمے میں عدالت نے 27 سالہ عبد الفتاح احمد کو پانچ سال قید کی سزا سنا دی۔
پولیس کے مطابق واقعہ 22 دسمبر 2019 کی رات تقریباً 12:35 بجے پیش آیا، جب چالیس سال کی عمر کے ایک شخص نے براڈوے میں واقع ایک پب سے نکلنے کے بعد ٹیکسی کی تلاش شروع کی۔ اسی دوران عبد الفتاح احمد نے بلا اشتعال اس پر حملہ کر دیا۔
ملزم نے متاثرہ شخص کو گھسیٹ کر زمین پر گرایا اور اس کے سر پر متعدد لاتیں ماریں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد وہ کچھ فاصلے تک گیا، پھر واپس آیا، اپنے موبائل فون سے زخمی شخص کی تصویر یا ویڈیو بنانے کی کوشش کی اور دوبارہ اس کے سر پر دو مزید لاتیں ماریں۔
موقع پر موجود افراد نے فوری طور پر زخمی شخص کی مدد کی، جسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں اس کی ناک ٹوٹ گئی جبکہ چہرے پر شدید زخم آئے، جن کے علاج کے لیے سرجری کرنا پڑی۔
کیمرج شائر پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی شناخت کی، جبکہ اس کے موبائل فون کے ڈیٹا سے بھی ثابت ہوا کہ وہ واقعے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود تھا۔
عبد الفتاح احمد، جو برانٹ ووڈ روڈ، لوٹن کا رہائشی ہے، پر ابتدا میں سنگین جسمانی نقصان پہنچانے (GBH with intent) کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم ذہنی صحت سے متعلق قانونی کارروائیوں کے باعث مقدمے میں تاخیر ہوئی۔
بعد ازاں 4 اگست کو کیمبرج کراؤن کورٹ نے ملزم کو کم درجے کے جرم سنگین جسمانی نقصان پہنچانے (GBH without intent) کا اعتراف کرنے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی۔
تحقیقات کی سربراہ ڈیٹیکٹو سارجنٹ سارہ مورگن نے کہا کہ یہ ایک نہایت سفاک اور بلا اشتعال حملہ تھا، جس میں متاثرہ شخص صرف رات گزارنے کے بعد گھر واپس جانا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عدالتی کارروائی کے بعد انصاف ہوتے دیکھ کر انہیں اطمینان ہے
