برمنگھم: برطانیہ کے شہر برمنگھم کی رہائشی ایما جین ولیمز پر ایک بچے کی دوا میں مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کر اسے قتل کرنے کی کوشش کے مقدمے کا دوبارہ ٹرائل آئندہ سال کیا جائے گا، کیونکہ پہلی سماعت میں جیوری کسی متفقہ فیصلے پر نہیں پہنچ سکی۔
41 سالہ ایما جین ولیمز، جو ارڈنگٹن کے علاقے پائپ ہیز کی رہائشی ہیں، جمعرات کو برمنگھم کراؤن کورٹ میں پیش ہوئیں، جہاں انہیں بتایا گیا کہ کراؤن پراسیکیوشن سروس (CPS) مقدمے کا دوبارہ ٹرائل کرائے گی۔
خاتون پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک کم عمر بچے کی دوا میں مبینہ طور پر مداخلت کر کے اسے قتل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اس الزام کی سختی سے تردید کرتی ہیں۔ عدالتی حکم کے باعث متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔
پچھلے ماہ ختم ہونے والے پہلے ٹرائل میں جیوری نے چھ گھنٹے سے زائد غور و خوض کے بعد عدالت کو بتایا تھا کہ وہ کسی متفقہ فیصلے تک نہیں پہنچ سکی۔
سماعت کے دوران جج سائمن ڈریو KC نے کہا کہ نئے ٹرائل کے لیے دستیاب پہلی تاریخ مارچ 2027 ہے، جو تقریباً سات سے دس دن جاری رہنے کی توقع ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ اگر ممکن ہو تو مقدمے کی سماعت جنوری میں ہی مقرر کر دی جائے۔
عدالت میں موجود ایما جین ولیمز اس موقع پر جذباتی دکھائی دیں اور جج کی بات سننے کے بعد انہوں نے کہا:
"شکریہ، معزز جج صاحب۔”
کراؤن پراسیکیوشن سروس نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کرائے گی تاکہ نئے جیوری کے سامنے تمام شواہد دوبارہ پیش کیے جا سکیں۔
