تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم میں 1990 کی دہائی کے دوران "مسٹر میوزک” کے نام سے شہرت پانے والے سابق موسیقی کے استاد کیتھ ایلن کو 17 سالہ طالبہ سے زیادتی کے جرم میں ساڑھے آٹھ سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
برمنگھم کراؤن کورٹ نے 82 سالہ کیتھ ایلن کو اس تاریخی مقدمے میں سزا سنائی، جو تقریباً تین دہائیاں بعد اس وقت منظرِ عام پر آیا جب متاثرہ خاتون نے خاموشی توڑتے ہوئے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔
نجی موسیقی کے اسباق سے آغاز
عدالت کو بتایا گیا کہ کیتھ ایلن نے متاثرہ طالبہ کو اس وقت نشانہ بنانا شروع کیا جب وہ صرف 15 سال کی تھی۔ نجی موسیقی کی کلاسوں کے دوران ابتدا میں وہ معمولی جسمانی رابطے کے بہانے بناتا رہا، جس کے بعد نامناسب حرکات اور بوسہ لینے تک بات پہنچ گئی۔
عدالت میں بتایا گیا کہ وہ طالبہ کو اپنی گاڑی میں اسکول بھی لے جاتا تھا اور راستے میں جان بوجھ کر مختلف مقامات پر لے جا کر اسے خوفزدہ اور بے بس محسوس کراتا تھا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں بیان دیا کہ اس وقت وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکی کہ اسے کس طرح آہستہ آہستہ ذہنی طور پر قابو میں کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی گرومنگ کا سب سے خطرناک پہلو ہوتا ہے۔
30 سال بعد سامنے آیا مقدمہ
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ 2022 میں ایک ذاتی صدمے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ کیتھ ایلن اب بھی نوجوانوں کے ایک آرکسٹرا سے وابستہ ہے، جس پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ مزید خاموش رہنا ممکن نہیں اور پولیس سے رجوع کیا۔
پولیس کی تحقیقات کے بعد مقدمہ عدالت میں پیش ہوا جہاں جیوری نے کیتھ ایلن کو ریپ کے جرم میں قصوروار قرار دیا۔
ماضی میں بھی سزا یافتہ
عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ کیتھ ایلن اس سے قبل 1994 میں بچوں کے آرکسٹرا کے فنڈز میں سے 50 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم خرد برد کرنے کے جرم میں بھی سزا یافتہ رہ چکا ہے۔
متاثرہ خاتون کا پیغام
سزا کے بعد متاثرہ خاتون نے ویسٹ مڈلینڈز پولیس اور استغاثہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دیگر متاثرین کو بھی سامنے آنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا:
"اگر آپ کسی ایسے جرم کا شکار ہوئے ہیں تو آواز اٹھائیں، آپ کی بات سنی جائے گی، اور جو کچھ ہوا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔”
پولیس کا مؤقف
ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے کہا کہ یہ مقدمہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ گرومنگ کئی برسوں تک جاری رہ سکتی ہے اور اس کے اثرات متاثرہ شخص کی پوری زندگی پر پڑ سکتے ہیں۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی کے ساتھ ماضی میں بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہو تو وہ بلا خوف سامنے آئے، کیونکہ تاریخی مقدمات میں بھی قانون کارروائی کر سکتا ہے۔
