تکبیر نیوز (واشنگٹن): امریکا میں ایچ ون بی (H-1B) اور پرم (PERM) ویزا پروگرامز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ویزا فراڈ کے الزامات پر بڑے پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں، جن کے دائرہ کار میں ایک معروف بھارتی آئی ٹی کمپنی سمیت متعدد ادارے شامل ہیں۔
بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام غیر ملکی کارکنوں کے لیے ویزا درخواستوں میں مبینہ جعلسازی، غلط معلومات فراہم کرنے اور امیگریشن قوانین کے ممکنہ غلط استعمال کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیقات کے دائرے میں آنے والی کمپنیوں میں بھارتی آئی ٹی کمپنی کوگنیزنٹ (Cognizant) کا نام بھی شامل ہے، تاہم تاحال کمپنی یا کسی بھی ادارے کے خلاف کسی عدالت کی جانب سے جرم ثابت نہیں ہوا۔
امریکی ٹاسک فورس سرگرم
رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقات ایک خصوصی امریکی ٹاسک فورس کر رہی ہے، جس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا بعض کمپنیوں نے ویزا پروگرامز کا استعمال کرتے ہوئے غیر ملکی کارکنوں کا استحصال کیا یا امریکی ملازمین کے روزگار کے مواقع متاثر کیے۔
امریکی محکمۂ محنت کے انسپکٹر جنرل انتھونی ڈی ایسپوزیتو کے مطابق متعدد کمپنیوں کو ریکارڈ طلب کرنے کے لیے سمن جاری کیے جا چکے ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
ممکنہ خدشات کیا ہیں؟
تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ویزا درخواستوں میں غلط معلومات فراہم کی گئیں، تنخواہوں اور ملازمت کی شرائط سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہوئی یا امیگریشن نظام کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔
ماہرین کے مطابق اگر الزامات ثابت ہوئے تو متعلقہ کمپنیوں کو مالی جرمانوں، قانونی کارروائی اور مستقبل میں ویزا اسپانسرشپ پر پابندی جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تحقیقات ابھی جاری ہیں
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور حتمی نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔
قانونی اصول کے مطابق تحقیقات میں شامل کسی بھی کمپنی یا فرد کو عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے تک قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
