تکبیر نیوز (شیفیلڈ، برطانیہ): شیفیلڈ میں نومولود بچی کو مبینہ طور پر چاقو کے وار کرکے قتل کیے جانے کے واقعے میں چار افراد پر قتل کا مقدمہ درج کردیا گیا ہے، جبکہ ایک 15 سالہ لڑکی پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ایمرجنسی سروسز کو اتوار 30 اگست کو شیفیلڈ کے وِنک بینک علاقے میں ہولی ویل ہائٹس سے متعلق اطلاع دی گئی تھی، جہاں نومولود بچی شدید زخمی حالت میں ملی اور بعد ازاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
پولیس کے مطابق دو مردوں اور دو خواتین پر قتل کے ساتھ ساتھ بچے کی موت کا سبب بننے یا اسے روکنے میں ناکامی اور نومولود کے قتل کو چھپانے کی کوشش کے ذریعے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ملزمان کی شناخت یہ ہے:
- اینڈریا اسکوپووا، 20 سال، سابق رہائش روبی اسٹریٹ، شیفیلڈ
- پیٹر ہوروَتھ جونیئر، 19 سال، ہولی ویل ہائٹس، شیفیلڈ
- نینا ہوروَتھوا، 37 سال، ہولی ویل ہائٹس، شیفیلڈ
- پیٹر ہوروَتھ سینئر، 38 سال، ہولی ویل ہائٹس، شیفیلڈ
پولیس کے مطابق 15 سالہ لڑکی پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ قانونی وجوہات کی بنا پر اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی۔
پانچوں افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں بدھ کے روز شیفیلڈ میجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔
مزید دو خواتین ضمانت پر
پولیس نے بتایا کہ قتل کے شبہ میں گرفتار کی گئی 26 اور 37 سالہ دو خواتین فی الحال ضمانت پر ہیں اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر ٹام ووڈورڈ نے واقعے پر مقامی کمیونٹی کے ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس تکلیف دہ واقعے سے متاثر ہونے والی کمیونٹی کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کیس کے بارے میں آن لائن قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے اور پولیس کو پیچیدہ تحقیقات مکمل کرنے کا موقع دیا جائے۔
پراسیکیوشن کا منصفانہ ٹرائل پر زور
ڈپٹی چیف کراؤن پراسیکیوٹر لارین کوسٹیلو نے کہا کہ پراسیکیوٹرز نے یہ طے کرنے کے لیے شواہد کا جائزہ لیا ہے کہ مقدمہ عدالت میں لے جانے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں اور فوجداری کارروائی جاری رکھنا عوامی مفاد میں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی فعال مرحلے میں ہے اور تمام ملزمان کو منصفانہ ٹرائل کا قانونی حق حاصل ہے۔
