تکبیر نیوز (لنکاشائر، برطانیہ): برطانیہ میں منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں 25 سال قید کی سزا پانے والا ایک خطرناک ڈیلر جیل کے اندر رہتے ہوئے بھی منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیا کا کاروبار چلاتا رہا اور مبینہ طور پر ہر دو ماہ میں تقریباً 5 لاکھ پاؤنڈ کماتا تھا۔
36 سالہ جان پال ڈگ ویڈ کو کوکین اور ہیروئن کی فراہمی کے جرائم میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ HMP Garth جیل میں قید تھا، جہاں اس نے ڈرون کے ذریعے جیل کے اندر منشیات، موبائل فونز اور دیگر ممنوعہ اشیا پہنچانے کے نیٹ ورک میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کیا۔
Prisons and Probation Ombudsman (PPO) کی تحقیقات کے مطابق ڈگ ویڈ اپریل 2024 میں اپنی جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا۔ تحقیقات میں اس کی موت کا جائزہ لیتے ہوئے جیل کے اندر اس کی مسلسل مجرمانہ سرگرمیوں اور عملے کی جانب سے فلاحی نگرانی کے بعض معاملات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
تحقیقات کے مطابق ڈگ ویڈ EncroChat پر "Diorpaw” کے نام سے سرگرم تھا۔ اسے ابتدائی طور پر HMP Liverpool میں ریمانڈ پر رکھا گیا، بعد ازاں Forest Bank اور Leeds جیلوں میں منتقل کیا گیا اور جون 2022 میں HMP Garth پہنچا۔
جیل کی سیکیورٹی انٹیلی جنس میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈگ ویڈ جیل کے اندر ڈرون کے ذریعے منشیات، موبائل فونز اور دیگر ممنوعہ اشیا پہنچانے کا انتظام کرتا تھا۔ جیل میں اس کے پاس مختلف مواقع پر موبائل فون بھی برآمد ہوئے۔
فروری 2024 کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیل کے C Wing میں موجود بعض قیدی ڈرون کے ذریعے جیل میں بھیجی جانے والی ممنوعہ اشیا سے ہر چند ماہ بعد تقریباً 4 سے 5 لاکھ پاؤنڈ کما رہے تھے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ڈگ ویڈ جیل کے اندر منشیات کے کاروبار سے جڑا ہوا تھا اور بعض قیدیوں کے ساتھ اس کے تنازعات بھی پیدا ہوئے تھے۔
نومبر 2023 میں سی سی ٹی وی میں چار قیدیوں کو ڈگ ویڈ کی کوٹھڑی میں داخل ہوتے دیکھا گیا، جس کے بعد وہ جسم پر کٹ لگنے کے زخموں کے ساتھ پایا گیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ گر گیا تھا، تاہم جیل کی سیکیورٹی فائل میں اس واقعے کو ممکنہ طور پر منشیات کے قرض اور گینگ سے متعلق معاملہ قرار دیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق ستمبر 2023 میں ڈگ ویڈ نے کوکین کے زیر اثر اپنے سینے پر معمولی کٹ لگا کر خود کو نقصان پہنچایا تھا، تاہم اس واقعے کے بعد جیل انتظامیہ نے خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے والے قیدیوں کے لیے استعمال ہونے والے ACCT سپورٹ پروسیجر کا آغاز نہیں کیا۔
PPO کے محتسب ایڈرین اشر نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ڈگ ویڈ کے خطرے کا دوبارہ جائزہ لینے کا ایک اہم موقع ضائع ہوا۔
تحقیقات کے مطابق موت سے قبل کے دنوں میں ڈگ ویڈ کی اپنی ساتھی کے ساتھ فون پر گفتگو سے تعلقات میں تناؤ ظاہر ہوتا تھا، تاہم ایک خاتون رشتہ دار سے گفتگو میں وہ بظاہر خوش مزاج تھا اور اس نے مذاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ "میرے پاس ابھی چند سال باقی ہیں۔”
اس کی ساتھی نے بھی بتایا کہ آخری مرتبہ بات کرتے ہوئے ڈگ ویڈ نے ایسا کوئی اظہار نہیں کیا تھا جس سے یہ محسوس ہو کہ وہ خودکشی یا اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
ڈگ ویڈ کو آخری مرتبہ 12 اپریل کی شام 7 بج کر 39 منٹ پر قیدیوں کی معمول کی گنتی کے دوران زندہ دیکھا گیا۔ اگلی صبح اس کی کوٹھڑی کے مشاہداتی پینل کو ڈھانپا ہوا پایا گیا، لیکن عملے نے اس پر مناسب کارروائی نہیں کی۔
تحقیقات کے مطابق صبح تقریباً 11 بج کر 30 منٹ پر ایک افسر نے کوٹھڑی کا دروازہ کھولا لیکن اندر دیکھنے کے بجائے اسے بند کر دیا، بعد ازاں ایک دوسرے قیدی نے ڈگ ویڈ کو مردہ پایا۔
اس کی موت کے روز جیل کو یہ انٹیلی جنس بھی موصول ہوئی کہ ڈگ ویڈ کو جیل سے باہر موجود منظم جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے تلاش کیا جا رہا تھا اور وہ مبینہ طور پر قرضوں کے حوالے سے دباؤ میں تھا۔
ڈگ ویڈ کو مارچ 2021 میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں منشیات کی فراہمی کی سازش کے سات مقدمات اور منی لانڈرنگ کے ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی۔ استغاثہ کے مطابق اس کا تعلق کم از کم 30 کلوگرام کوکین اور ساڑھے 12 کلوگرام ہیروئن کی سپلائی سے تھا۔
عدالت میں ڈگ ویڈ نے "Diorpaw” نامی EncroChat اکاؤنٹ استعمال کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم اس کے بچوں کی سالگرہ کی تقریبات سے متعلق پیغامات سمیت دیگر شواہد کی مدد سے اس کی شناخت کی گئی۔
PPO نے جیل انتظامیہ کو سفارشات بھی جاری کی ہیں، جن میں یہ یقینی بنانا شامل ہے کہ اگر کسی قیدی کی کوٹھڑی کا مشاہداتی پینل بند یا ڈھانپا ہوا ہو تو عملہ مناسب طریقے سے اس کی جانچ کرے اور دروازہ کھولنے سے قبل اندر ضرور دیکھے۔
